.

’انٹرنیٹ فریڈم‘ میں ایران بدترین ممالک میں شامل :رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بنیادی شہری آزادیوں کو دبانے میں بدنامی کی حد تک مشہور ایرانی رجیم انٹرنیٹ کی آزادی سے بھی شہریوں کو محروم رکھے ہوئے ہے۔ ایک نئی رپورٹ کے مطابق ایران ایسے سو ممالک کی فہرست میں شامل ہے جو انٹرنیٹ پر سخت ترین قدغنیں لگانے میں شہرت رکھتے ہیں۔

شہری آزادیوں کے حوالے سے کام کرنے والے عالمی ادارے ’فریڈم ہاؤس‘ کی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انٹرنیٹ پر قدغنیں لگانے والے 100 ملکوں کی فہرست میں ایران کا 85 واںمبر ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر حسن روحانی، ایرانی رجیم کے عہدیدار اور اہم سیاسی شخصیات گذشتہ انتخابات کے دوران سوشل میڈیا کو وسیع پیمانے پر اپنی حمایت میں جاری مہما میں استعمال کرتے رہے ہیں، مگر عام شہریوں کے لیے انٹرنیٹ کے استعمال پر کئی طرح کی قدغنیں لگائی جاتی ہیں۔ گذشتہ جون میں ایران میں انسٹا گرام اور ٹیلی گرام جیسی ایپلی کیشنز کا سیاسی سطح پر سینیر لیڈروں کی جانب سے بھرپور استعمال کیا گیا مگر سماجی رابطوں کی ان ویب سائٹس کے عام شہریوں کے استعمال کے وقت پابندیاں عایدکی جاتی ہیں، یا ان کے استعمال کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے۔

انسانی حقوق گروپ کے مطابق ایران میں انٹرنیٹ صارفین کی بڑی تعداد گرفتار کی جاتی رہی ہے۔ ان میں ٹیلی گرام کے منتظمین بھی شامل یں۔ ٹیلی گام سے وابستہ 12 افراد کی کڑی نگرانی اب بھی جاری ہے۔

ایران میں قریبا 4 کروڑ افراد ٹیلی گرام کا استعمال کرتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ اگر کسی شہری کے سوشل میڈیا سائٹس کے صفحے چینل یا گروپ میں شامل افراد کی تعداد 5000 سے بڑھ جائے تو وہ وزارت ثقافت میں اس کی رجسٹریشن کرائے۔

فریڈم ہاؤس کی رپورٹ کے مطابق ایران میں سماجی رابطوں کی کئی ویب سائیٹس جن میں عالمی شہرت یافتہ ’ٹوئٹر‘، فیس بک، گوگل بھی شامل ہیں بلاک ہیں۔

موجودہ ایرانی صدر حسن روحانی کے دور حکومت میں ملک میں انٹرنیٹ کے استعمال کے ماحول میں معمولی بہتری آئی ہے مگر وہ انٹرنیٹ کے استعمال پر عاید قدغنیں ختم کرانے میں ناکام رہے ہیں۔