.

الشیخ حمد بن خلیفہ نے اپنے والد کا تختہ کیسے الٹا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اپنے والد کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرنے کی روایت بہت پرانی اور اس کی مثال صرف کویت میں نہیں بلکہ تاریخ میں ایسے واقعات بہ کثرت دیکھنے کو ملتے ہیں۔

العربیہ نیوز چینل پر ’قطر میں اقتدار کی کشمکش‘ کے حوالے سے نشر کی گئی دستاویزی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سابق امیر قطر الشیخ حمد بن خلیفہ نے اپنے والد الشیخ خلیفہ کی حکومت کا تختہ کیسے الٹا؟

اس حوالے سے العربیہ نے تاریخی ویڈیوز حاصل کی ہیں جن میں دکھایا گیا ہے کہ امیر قطر الشیخ خلیفہ اور کئی دوسرے اہم سرکاری عہدیدار تعطیلات گذارنے سوئٹرزلینڈ روانہ ہونے کے لیے دوحہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمع ہیں۔ امیر قطر جہاز پرسوار ہونے سے قبل ولی عہد اور الوداع کے لیے آئے دیگر عہدیداروں سے فردا فردا ملتے ہیں۔

جب الشیخ خلیفہ کا جہاز فضاء میں بند ہو جاتا ہے تو الشیخ حمد بن خلیفہ اپنے منصوبے کا آغاز انتہائی تیزی اور ڈرامائی انداز میں کرتے ہوئے مسلح افواج کو شاہی محل اور ہوائی اڈے کا کنٹرول سنھبالنے کے احکامات صادر کرتے ہیں۔ قطر کی شاہراؤں پر اچانک ٹینک نمودار ہوتے ہیں۔

تمام کارروائی مکمل کرنے کے بعد حمد بن خلیفہ اپنے والد کو ٹیلیفون پر اپنی ’کارستانی‘ سے آگاہ کرتے ہوئے انہیں بتاتے ہیں کہ ان کی عدم موجودگی میں اقتدار میں نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ الشیخ خلیفہ غصے میں فون بند کر دیتے ہیں۔

الشیخ حمد کے سابق مشیر خزانہ ڈاکٹر مروان اسکندر نے ’االعربیہ‘ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کا تختہ الٹنا بہت آسان تھا۔ اس کی وجہ یہ کہ قطر نہ تو کوئی بہت بڑا ملک ہے اور نہ ہی اس کے پاس اتنی بڑی تعداد میں فوج ہے اور نہ ہی وہاں پر شہزادوں کی فوج ظفر موج ہے۔ ولی عہد کے دفتر اور امیر قطر کے دفتر میں صرف پندرہ میٹر کا فاصلہ تھا۔ الشیخ حمد اپنے والد ہی کے دفتر میں بیٹھتے تھے اور تمام سیکیورٹی پروٹوکول سے مستفید ہوتے۔ انہوں نے اپنے والد کے بیرون ملک سفر کے موقع سے فایدہ اٹھا کر اقتدار اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیا۔

والد کا تختہ الٹنے کے بعد الشیخ حمد بن خلیفہ نے سرکاری ٹی پر خطاب میں اپنے امیر قطر ہونے کا اعلان کیا اور عوام الناس کو بیعت کا حکم دیا گیا۔ اس موقع فوٹیج میں آل ثانی خاندان کے افراد کو الشیخ حمد کے ارد گرد بھی دیکھا جا سکتا ہے جو نئے امیر کی بیعت کر رہے ہیں۔

قطری اپوزیشن کے ترجمان خالد ھیل نے بتایا کہ یہ تاثر عام ہے کہ اپنے والد کا تختہ الٹ کر اقتدار قبضے میں لینے والے الشیخ حمد بن خلیفہ نے عوام سے بیعت ان کی مرضی کے خلاف کرائی۔ نوے فی صد لوگوں کو یہ علم بھی نہیں تھا کہ الشیخ خلیفہ کا تختہ الٹ دیا گیا ہے۔

الھیل نے بتایا کہ بیعت کے روز دوحہ کے تمام راستے شاہی دیوان کی طرف موڑ دیئے گئے اور لوگوں کو لاعلمی میں رکھ کر شاہی دیوان میں بیعت کے لیے لایا گیا۔