.

انتقامی کارروائی کے تحت فلسطینی شہری کا مکان مسمار،20 افراد بے گھر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قابض صہیونی فوج نے فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس شہر میں کل بدھ کو تین اسرائیلی فوجیوں کو جنہم واصل کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے ایک فلسطینی کے مکان کو دھماکے سے اڑا دیا، جس کے نتیجے میں گھرمیں رہائش پذیر بیس افراد مکان کی چھت سے محروم ہو گئے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ بدھ کو علی الصباح اسرائیلی فوج کی بھاری نفری نے بیت المقدس کے سوریک قصبے میں شہید فلسطینی نمر الجمل کے اہل خانہ کے گھرکا محاصرہ کیا۔ مکان کو چاروں طرف سے گھیرے میں لینے کےبعد اس اس کی اندرونی اور بیرونی دیواروں میں ڈرل کی مدد سے سوراخ کیے گئے اور ان سوراخوں میں بارود سے بھری کیبلیں فٹ کی گئیں۔ اس کے بعد مکانوں کو زور دار دھمکاے سے اڑا دیا گیا۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ گھروں میں رہنے والے شہریوں کو انہدائی کارروائی سے قبل ہی باہر نکال دیا گیا تھا جو کھلے آسمان تلے زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔

خیال رہے کہ الجمل کو اسرائیلی فوج نے ستمبر میں ’ھار آدار‘ یہودی کالونی میں گھس کر تین یہودی فوجیوں کو ہلاک کرنے کے دوران گولیاں مار کر شہید کر دیا تھا۔

نمر الجمل نے یہ مزاحمتی کارروائی 27 ستمبر 2017ء کو کی تھی، جس کے بعد اسرائیلی فوج نے شمال مغربی بیت المقدس میں واقع اس کے مکان کو خالی کرانے کے احکامات دیے تھے۔

اسرائیلی فوج گذشتہ کچھ عرصے سے مزاحمتی کارروائیوں میں ملوث قرار دیے گئے فلسطینیوں کے اہل خانہ کو اجتماعی سزا دینے کے لیے ان کے گھروں کی مسماری کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ہے۔

اسرائیل میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’بتسلیم‘ کے مطابق سنہ 1967ء کی جنگ کے بعد 2005ء تک اسرائیل نے فلسطینیوں کے سیکڑوں مکانات مسمار کیے ہیں جس کےنتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہوئے۔ سنہ 2005ء کے بعد فلسطینیوں کےخلاف اجتماعی انتقامی کارروائی کے تحت ان کے مکانات کی مسماری کا سلسلہ شروع کیا گیا جو آج تک جاری ہے۔