.

حزب اللہ لبنانی نظام کی اغوا کار اور امن کے لیے خطرہ ہے: الجبیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے فرانسیسی ہم منصب جان ایف لودریاں کے ساتھ ملاقات میں ایرانی مداخلت ، انسدادِ دہشت گردی اور لبنانی بحران جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ جمعرات کے روز ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں الجبیر نے زور دے کر کہا کہ مذکورہ معاملات میں دونوں ملکوں کے ویژن میں مطابقت پائی جاتی ہے۔

سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ لبنان کے مستعفی وزیراعظم سعد حریری اس وقت مملکت میں سکونت پذیر ہیں اور ان کی وطن واپسی کا فیصلہ وہ سکیورٹی کی صورت حال دیکھ کر خود کریں گے۔

الجبیر نے لبنانی صدر میشیل عون کے اس قول کو بے بنیاد اور الزام قرار دیا جس میں لبنانی صدر نے کہا تھا کہ سعد حریری سعودی عرب میں زیر حراست ہیں۔ الجبیر کے مطابق حریری مملکت کی ایک حلیف شخصیت ہیں اور وہ لبنانی شہری ہونے کے ساتھ سعودی شہری بھی ہیں۔

حزب اللہ کے حوالے سے سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ ملیشیا لبنان میں مسئلے کی بنیاد ہے اس لیے کہ اس نے لبنانی نظام کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور متعدد عرب ممالک میں اس کی مداخلت کا سلسلہ جاری رہنے سے لبنان میں صورت حال بحران کا شکار ہو گی۔ الجبیر نے کہا کہ یہ ملیشیا ایران کے ہاتھ میں ہتھیار بنی ہوئی ہے جس کا اعتراف خود حزب اللہ کا سکریٹری جنرل کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ خطے اور لبنان دونوں کے استحکام کے لیے خطرہ ہے اور حزب اللہ کے ساتھ نمٹنے کے لیے طریقہ کار تلاش کیا جانا چاہیے۔ سعودی وزیر خارجہ کے مطابق ایران حزب اللہ کو خطے میں اپنا رسوخ اور عدم استحکام پھیلانے کے واسطے استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے یمن سے ریاض پر بیلسٹک میزائل داغے جانے کی مذمت میں فرانس کے موقف کو گراں قدر قرار دیا۔

اس موقع پر فرانس کے وزیر خارجہ نے باور کرایا کہ وہ سعودی عرب کا دورہ کرنے پر بہت مسرور ہیں اور یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی شراکت اور تعلقات کی مضبوطی کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی وزیر خارجہ کے ساتھ لبنان میں استحکام برقرار رکھنے اور اس کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔ اس کے علاوہ یمن سمیت علاقائی بحرانات اور دونوں ملکوں کے درمیان رابطہ کاری کی ضرورت پر تبادلہ خیال ہوا۔ لودریاں کے مطابق ایران کے ساتھ جوہری معاہدے اور خطے میں ایران کی مداخلت کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی۔

ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے لودریاں کا کہنا تھا کہ وہ جمعرات کو کسی وقت سعد حریری سے بھی ملاقات کریں گے اور حریری مناسب موقع پر فرانس کا دورہ کریں گے جہاں ان کا ایک دوست کے طور پر استقبال کیا جائے گا۔