.

لبنانی صدر بھی الریاض کے خلاف حزب اللہ کی اشتعال انگیز مہم میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے صدر میشل عون بھی سعودی عرب کے خلاف وہی اشتعال انگیز زبان استعمال کرنے لگے ہیں جو اس سے قبل ایرانی پرورہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا وتیرہ رہا ہے۔

سعودی عرب میں وزارت عظمیٰ کے عہدے سے استعفے کرنے کے بعد سعد حریری کے بارے میں جو انداز بیان حزب اللہ نے اپنایا، وہی لب ولہجہ اب صدر میشل عون نے اختیار کیا ہے۔

گذشتہ روز لبنانی صدر نے ایک بیان میں براہ راست اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سعودی عرب پر الزام عاید کیا کہ اس نے سعد حریری کو قید کررکھا ہے۔

حالانکہ سعد حریری ایک سے زاید مرتبہ تاکید کے ساتھ وضاحت کرچکے ہیں کہ وہ آزاد ہیں اور اپنی مرضی اور جان کو لاحق خطرات کے پیش نظر سعودی عرب میں رکے ہوئے ہیں۔ جیسے ہی حالات بہتر ہوتے ہیں وہ لبنان واپس لوٹ آئیں گے۔

حریری کے استعفے کی وجوہات سے توجہ ہٹاتے ہوئے لبنانی حکومت ، ایوان صدر اور وزارت خارجہ لبنان کو سعودی عرب کے ساتھ محاذ آرائی پر لے آئے ہیں۔ حالانکہ انہیں حزب اللہ کے سعودی عرب کے خلاف گھناؤنے ایجنڈے کو بے نقاب کرنے کے لیے کارروائی کرنا چاہیے تھی۔

سعد حریری کی جانب سے وارننگ کے بعد وزارت عظمٰی کے عہدے سے استعفیٰ اور گذشتہ روز میرونائیٹ چرچ کے پادری بشارۃ الراعی کا دورہ ریاض اور ان کا الحریری کے استعفے کے اسباب کی تائید لبنانی سیاسی لیڈرشپ کے لیے واضح پیغام ہے۔