.

یمن : مارب میں سرکاری فوج پر حوثیوں کا حملہ پسپا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں سرکاری فوج نے جمعرات کو علی الصبح مارب صوبے میں حوثی اور معزول صالح کی ملیشیاؤں کے ایک حملے کو ناکام بنا دیا جس میں صراوح کے محاذ پر یمنی فوج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ کارووائی میں باغی ملیشیاؤں کو بھاری جانی اور مادی نقصان اٹھانا پڑا۔

عسکری ذرائع کے مطابق باغی ملشیاؤں نے مذکورہ محاذ پر یمنی فوج کے ٹھکانوں میں دراندازی کی کوشش کی تاہم یمنی فوج کے بریگیڈز نے اس کوشش کو پسپا کر دیا اور فریقین کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ اس دوران یمنی فوج نے ملیشیاؤں کی ٹولیوں پر توپ سے گولہ باری کی جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں باغی ہلاک اور زخمی ہو گئے۔

دارالحکومت صنعاء کے شمال مشرق میں بھی لڑائی کا سلسلہ جاری رہا ۔ اتحادی افواج کے طیاروں نے کئی محوروں پر باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اس دوران یمنی فوج نے حوثی کمانڈر ابوکرار الکحلانی کو اس کے چار ساتھیوں سمیت پکڑ لیا جو ہتھیاروں اور گولہ بارود کی کھیپ ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر پہنچانے جا رہے تھے۔

یمنی سرکاری ذرائع کے مطابق یمنی فوج نے وادی محلی کے علاقے میں باغی ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر ایک بڑا حملہ کیا اور الرباح کے ٹیلوں پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ اس دوران باغیوں کو بھاری جانی نقصان کے بعد پیچھے ہٹنا پڑا۔

دوسری جانب یمنی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل عبدہ مجلی نے باور کرایا ہے کہ یمنی فوج نے حالیہ چند روز کے دوران اپنی نوعیت کی اہم پیش رفت کو یقینی بنایا ہے اور اس دوران صنعاء صوبے کے ایک بڑے ضلعے نہم کے تقریبا 85% رقبے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عسکری کارروائیاں منصوبہ بندی کے مطابق جاری ہیں اور اس سلسلے میں عرب اتحادی افواج کے ساتھ رابطہ کاری بھی ہے۔