.

’حریری کی واپسی لبنان حزب اللہ اور ایران کے مقابلے کا نقطہ آغاز ہو گا‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی وزیراعظم سعد حریری کے سعودی کی سرزمین پر استعفے نےنہ صرف عرب خطے بلکہ عالمی سطح پر ایک نیا بھونچال پیدا کیا ہے۔ حریری کا استعفیٰ اس عالمی سیاسی طرز فکر سے کافی حد تک ہم آہنگ ہے جو عرب ملکوں میں ایران کی بڑھتے اثر ونفوذ اور مداخلت کے خلاف ہے۔ سعد حریری کا استعفیٰ بھی دراصل عرب ممالک کے امور میں ایران کی مداخلت اور لبنان کی سیاست پرحزب اللہ کی اجارہ داری کے خلاف احتجاج ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو امریکا کے غیر سرکاری ذرائع سے اطلاعات ملی ہیں کہ سعد حریری مشرق وسطیٰ میں ایران کی مداخلت کے خلاف ایک موثر ستون ثابت ہوسکتے ہیں مگر امریکی اور ان کے حلیفوں نے سعد حریری کا وہ موقف بھی سنا ہے جس میں وہ لبنان کی سیاست کے حوالے سے طے پائے سمجھوتے کی پابندی کے حامی ہیں۔ اس سیاسی سمجھوتے کے تحت مشیل عون کو ملک کا صدر اور حزب اللہ کو لبنانی حکومت میں شامل کیا گیا۔

امریکیوں کا خیال ہے کہ حریری میشل عون کو حزب اللہ سے دور کرنے میں کامیاب نہیں رہے ہیں۔ دوسری طرف حزب اللہ اپنی سیاسی فتوحات کو آگے بڑھاتے ہوئے دیگر پارلیمانی جماعتوں کے ساتھ مل کر پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت بنانے کے لیے کوشاں ہے تاکہ حزب اللہ ملیشیا کو ریاست میں کلیدی حیثیت حاصل ہو۔ اس کے پاس قانون سازی کے وسیع تر اختیارات آجائیں اور وہ شام اور ایران کے ساتھ مل کر اپنی مرضی سے لبنان پر حکومت کرے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو معلوم ہوا ہے کہ حالیہ چند ہفتوں کے دوران امریکا اور اس کے اتحادیوں نے سعد حریری اور ان کی جماعت سمت کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ امریکیوں کو ایسے لگتا ہے کہ سعد حریری کے پاس حزب اللہ اور اس کے حلیفوں کو پیچھے دھکیلنے کے لیے فیصلوں کا اختیار یا تجاویز نہ ہونے کے برابر ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ حریری اور ان کی جماعت موجودہ سیاسی صورت حال کو پرسکون رکھنے اور موجودہ کیفیت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف حزب االلہ شام سے واپسی کے بعد اپنے ملک میں سیاسی فواید سمیٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

لبنان کے امن وامان کے وعدے

اگرچہ امریکی حکومت کے ترجمان اور دیگر عہدیدار لبنان کے موجودہ بحران پر بہت کم بات کرتے ہیں مگر ایسا لگتا ہے کہ امریکیوں کی توجہ کا مرکزی نکتہ لبنانی حکومت کی جانب سے امن وامان کے قیام کے حوالے سے کیے گئے وعدوں پر کمزوری دکھانا ہے۔

امریکا کے لبنان کے سیکیورٹی حکام سے دو مطالبات ہیں۔ اول یہ کہ لبنانی حکومت سیکیورٹی اداروں کی مدد سے حزب اللہ کے جنگجوؤں اور ایرانی اسلحہ کی شام میں ترسیل بند کرائے۔ دوم یہ ملک کے جنوبی علاقوں میں حزب اللہ ملیشیا کے جنگجوؤں کی سیکیورٹی کے بجائے سیکیورٹی امور کی ذمہ داری فوج اور پولیس کے حوالے کی جائے۔ اسرائیل کے ساتھ کسی نئی محاذ آرائی سے بچنے کے لیے بھی ایسا ضروری ہے۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر کی خلاف ورزی یا سرحد سے اسرائیلی فوجیوں کے اغواء کا کوئی واقعہ ایک نئی کشیدگی کا موجب بن سکتا ہے۔

بعض امریکی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ لبنانی فوج یہ دونوں ذمہ داریاں انجان دینے کی صلاحیت رکھتی ہے جب کہ بعض کا خیال ہے کہ حزب اللہ ملیشیا کا پلڑا فوج پر بھاری ہے۔ اس باب میں سے سے خطرناک امر وہ تاثر ہے کہ صدر میشل عون اور لبنان کی سیاسی قیادت امریکی مطالبے پر عمل درآمد کے حوالے سے غور کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔