.

اسامہ بن لادن نے حزب اللہ کے مقرب رابرٹ فسک سے ’یارانہ‘ کیوں کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی خفیہ ادارے ’سی آئی اے‘ کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ اسامہ بن لادن کی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ القاعدہ کے بانی رہ نما لبنان میں مقیم حزب اللہ کے مقرب برطانوی صحافی رابرٹ فِسک کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقات تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایبٹ آباد میں بن لادن کے مبینہ کمپاؤنڈ سےملنے والی دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ اسامہ اور رابرٹ فسک کے درمیان تین عشرے تک رابطہ رہا ہے۔ رابرٹ فسک لبنان میں برطانوی اخبار ’انڈی پنڈنٹ‘ کے نمائندہ کے طور پر کام کرتے تھے۔ القاعدہ اور بن لادن کے بارے میں ان کی رپورٹنگ کافی مشہور تھی حالانکہ اس اخبار کا شمار برطانیہ کے بائیں بازو کے حلقوں میں ہوتا ہے۔

دستاویزی فلم اور نائن الیون کی دسویں سالگرہ

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اسامہ بن لادن رابرٹ فسک پر اندھا اعتبار کیوں کرتے اور ان سے رابطے میں کیوں رہتے تھے حالانکہ دونوں کے درمیان دور دور تک فکری اور عقایدی قربت نہیں تھی؟ ان دستاویزات سے اس سوال کا بھی جواب ملتا ہے۔ بن لادن نے نائن الیون کے واقعے کے دس سال پورے ہونے پر ایک دستاویزی فلم تیار کرنے اور اسے نشر کرنے کو کہا تھا اور اس مقصد کے لیے رابرٹ فسک سے رابطے کو جواز قرار دیا تھا۔

تباہ کن جنگیں اور تنظیم کے مقاصد

القاعدہ کی قیادت کے نام بن لادن نے اپنے ایک مکتوب میں لکھا کہ وہ عرب صحافی عبدالباری عطوان اور رابرٹ فسک کے ساتھ گیارہ ستمبر کی دسویں برسی کے موقع پر رابطہ کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسامہ بن لادن کے پیروکاروں اور امریکا کے درمیان دس سال سے جاری تباہ کن جنگجوں اور تنظیم کے مقاصد کے بارے میں آگاہ کرنے کو کہا گیا۔ ان کے خیال میں نائن الیون کی دسویں برسی ان جنگجوں کےجاری رہنے اور تنظیم کے مقاصد کی وضاحت کے لیے بہترین موقع تھا۔

فسک کی تنہائی اور زہریلی گیسیں

اسامہ بن لادن کے بعض مکتوبات عجیب وغریب واقعات اور لطائف کی شکل اختیار کرگئے۔ رابرٹ فسک کو لکھے ایک مکتوب میں انہوں نے رابرٹ فسک کو ابتر ماحولیاتی مسائل پر توجہ دینے کی ترغیب دی۔ ان کا کہنا تھا کہ مستحقین کو ان کے حقوق دلوانے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے تاکہ دنیا انسانیت کو بچانے، ماحولیاتی تباہ کاریوں اور زہریلی گیسوں سے انسان کو نجات دلانے کے لیے کام کرے۔ ورنہ القاعدہ کے سامنے جنگ جاری رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ بن لادن کے بہ قول یہ جنگ دو تہذیبوں کے درمیان تصادم ہے۔

امریکی مالیاتی بحران میں رابرٹ فسک کا کردار

بن لادن کی جانب سے رابرٹ فسک سے رابطوں کی طرف پلٹتے ہیں۔ فسک کے ساتھ رابطوں کا ایک مقصد بن لادن نے اپنے ایک مکتوب میں بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ [فسک اور عطوان] کو بتایا کہ ان کا اخبارات کو معلومات کی فراہمی کا کردار سب سے اہم ہے۔ ہم نے انہیں تجویز دی کہ وہ ایک ایسی دستاویزی فلم تیار کریں جس کے لیے ہم انہیں صوتی اور ڈیویو کی شکل میں مواد بھی فراہم کریں گے۔ اس فلم میں یہ باور کرایا جائے کہ امریکا میں پیدا ہونے والا مالیاتی بحران القاعدہ کے مجاھدین کا پیدا کردہ ہے۔

فسک کے مضامین

مغربی حلقوں میں القاعدہ کے نظریاتی پروپیگنڈے کو فروغ دینے میں رابرٹ فسک کا کردار تھا۔ انہوں نے سنہ 2007ء میں مین ہیٹن دھماکوں کے بارے میں ایک مضمون لکھا۔ اس میں انہوں نے لکھا کہ بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح وہ بھی نائن الیون کے حقائق جاننے کے خواہاں ہیں۔ ان کے خیال میں نائن الیون کا واقعہ ہی دراصل دہشت گردی کے خلاف جنگی اور دھوکے پر مبنی جنگ کا شرارہ بنا۔ اس نام نہاد جنگ نے عراق اور افغانستان کو تباہی کے دھانے پر پہنچا دیا ہے۔

بائیں بازو کی اسلام پسندوں سے ہمدردیاں

لندن سے شائع ہونے والے پین عرب روزنامہ الشرق الاوسط کے کے صحافی اور دانشور عادل درویش نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بن لادن کی رابرٹ فسک کے ساتھ قربت کی ایک وجہ یہ تھی کہ برطانیہ اور دوسرے مغربی ملکوں کے بائیں بازو کے حلقے بنیاد پرست اسلام پسندوں، ایران اور اکوان المسلمون سے ہمدردی رکھتے تھے۔ یہ اتحاد غیر منظم رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رابرٹ فیسک کی باتوں پر کم ہی کسی نے اعتبار کیا۔

سعودی عرب کے خلاف حزب اللہ سے اتحاد

عادل درویش کا کہنا ہے کہ بن لادن اور رابرٹ فسک کے درمیان اتحاد دراصل مارکسی نظریات کے حاملین کی اسلام پسندوں کے ساتھ ہمدردیاں تھیں۔ ان کے خیال میں اسلام پسندوں کا ابلاغی موقف وہی ہے جو حزب اور اخوان المسلمون کا ہے۔ یہ امریکا، سعودی عرب اور مصر کے موقف کے خلاف تھے۔