.

ایرانی سکیورٹی فورسز نے ہاشمی رفسنجانی کی وصیت کیوں چُھپائی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی وفات سے قبل وصیت کے طور پر اپنی قریبی شخصیات جن میں ان کے سیاسی مشیر غلام علی رجائی شامل ہیں ان کے سامنے دو جُملے اکثر دہرایا کرتے تھے۔

ان میں ایک عبارت یہ تھی کہ "یہ لوگ (خامنہ ای کے دھڑے والے) اس بات سے ڈرتے ہیں کہ میں اُس معلومات کو اِفشا نہ کر دوں جو میرے پاس ہے اور یقینا ایک روز میں ایسا کروں گا"۔ دوسری عبارت یہ تھی کہ "جو کچھ میں نے تحریر کیا ہے اگر اس کا ایک صفحہ بھی شائع ہو گیا تو وہ ان سب کو برباد کرنے کے لیے کافی ہو گا"۔

رفسنجانی کی وفات کے بعد رواں برس جنوری میں ان کے مشیر رجائی کی جانب سے سامنے آنے والی یہ دونوں عبارتیں اس حقیقی سبب کا انکشاف کرتی ہیں جس کی بنیاد پر سابق صدر کی وصیت کو چھپایا گیا۔ رفسنجانی کے اہل خانہ کے مطابق انہوں نے یہ وصیت اپنی وفات سے ایک برس پہلے لکھی تھی۔

رجائی نے جو ایران کی مجلس تشخیص مصلحت نظام میں رفسنجانی کے مشیر تھے انکشاف کیا کہ سابق صدر خفیہ تحریریں ایک خاص جگہ بیٹھ کر لکھا کرتے تھے اس لیے کہ وہ جانتے تھے کہ ان حقائق کو دو یا تین دہائیوں بعد ہی سامنے لایا جا سکتا ہے۔

رواں برس اکتوبر میں رفسنجانی کی بیٹی فاطمہ نے الزام عائد کیا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے ان کے والد کی تمام ذاتی اشیاء قبضے میں لے لیں جن میں یہ وصیت بھی شامل تھی اور ان کے اہلِ خانہ ابھی تک اس کی تلاش میں ہیں۔ ایرانی روزنامے "جہان صنعت" سے گفتگو کرتے ہوئے فاطمہ نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کے اہل کاروں نے ان کے والد کی وفات کے روز ہی آ کر تمام اشیاء ضبط کر لی تھیں۔

وصیت کے چھپائے جانے سے متعلق تازہ ترین بیان میں رفسنجانی کے بیٹے یاسر ہاشمی نے جمعرات کے روز ایرانی اخبار "اعتماد" کو بتایا کہ ان کا گھرانہ ابھی تک اصلی وصیت کو ڈھونڈ رہا ہے جس ان کے والد نے وفات سے قبل تحریر کی تھی۔

ایران کے سرکاری ٹیلی وژن پر رفسنجانی کی موت کے بعد ان کی وصیت کا ایک حصہ پڑھ کر سنایا گیا تھا تاہم رفسنجانی کی بیٹی فاطمہ کے مطابق یہ وصیت 17 برس پرانی ہے یعنی سخت گیر ٹولے کے ساتھ اختلافات سے قبل لکھی گئی۔ اس ٹولے نے رفسنجانی کو ان کے بہت سے منصبوں اور اختیارات سے دُور کیا جن میں شوری نگہبان کی سربراہی شامل ہے۔

ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ کے زیر قیادت سخت گیر ٹولے اور ہاشمی رفسنجانی کے درمیان اختلاف کا آغاز اُس وقت ہوا جب رفسنجانی نے 2009 میں اٹھنے والی سبز تحریک کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہ تحریک 2009 کے انتخابات میں محمود احمدی نژاد کے حق میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ اس دوران سکیورٹی فورسز نے درجنوں افراد کو قتل اور ہزاروں کو گرفتار کیا۔

اس کے علاوہ سپریم رہ لیڈر علی خامنہ ای کے براہ راست حکم پر تحریک کے رہ نماؤں مہدی کروبی، میر حسین موسوی اور ان کی اہلیہ زہراء رہنود کو نظر بند کر دیا گیا جو کہ ابھی تک جاری ہے۔