.

روس کی اسد نوازی، 24 گھنٹوں میں ایک اور قرارداد ویٹو کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے شام میں نہتے شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کے تحقیقاتی مشن میں ایک ماہ کی توسیع سے متعلق جاپان کی طرف سے پیش کردہ قرارداد بھی ویٹو کردی۔

قبل ازیں جمعرات کو روس نے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد بھی ویٹو کردی تھی۔ سنہ دو ہزار گیارہ کے بعد روس نے شامی رجیم کی فوج کے ہاتھوں جرائم سے متعلق اقوام متحدہ کی ایک درجن کے قریب قراردادیں ویٹو کی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سلامتی کونسل میں شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے تحقیقاتی مشن میں ایک ماہ کی توسیع سے متعلق درخواست پر 15 مستقل ارکان میں سے 12 نے قرارداد کے حق میں جب کہ بولیویا اور روس نے اس کی مخالفت میں ووٹ ڈالا۔

روس نے قرارداد کو ناکام بنانے کے لیے ویٹو کا حق استعمال کیا۔ یوں چوبیس گھںٹوں میں ماسکو نے اپنے حلیف بشارالاسد کو جرائم کی تحقیقات سے بچانے کے لیے ایک اور قرارداد ویٹو کردی۔

سلامتی کونسل میں قرارداد کی منظوری کے لیے پانچ مستقل ارکان کی طرف سے ’ویٹو‘ پاور استعمال نہ کرنے کے ساتھ کم سے کم نو ارکان کی حمایت کا حصول ضروری ہے۔ تاہم سلامتی کونسل میں امریکا، روس، چین، فرانس اور برطانیہ کو ویٹو پاور کا درجہ حاصل ہے۔ گذشتہ روز پیش کی گئی قرارداد روس کی جانب سے ویٹو کردی گئی تھی۔