.

شام : سرکاری میڈیا خواتین میزبان کے لیے کپڑے خریدنے سے قاصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشار الاسد کی حکومت کے اقتصادی بحران کی نت نئی تصاویر سامنے آںے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے کی تازہ ترین پیش رفت میں بشار حکومت کے وزیر اطلات رامز ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی وزارت خواتین میزبانوں کو لباس کی فراہمی یقینی بنانے کی حالت میں نہیں ہے۔ اتوار کے روز شائع ہونے والے ایک اخباری بیان میں مذکورہ وزیر نے بتایا کہ ان کی وزارت خواتین میزبانوں کے کپڑوں کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے "Sponsors" کا سہارا لینے پر مجبور ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ عمل گویا کہ ایک طرح سے "بھیک مانگنے" کے مترادف ہے۔

شامی وزیر اطلاعات کے مطابق سرکاری چینلوں پر "اہم" شخصیات کی میزبانی کے وقت انہیں انتہائی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیوں کہ مہمانوں کی خدمت میں پیش کیا جانے والا "اعزازیہ" بہت کم ہوتا ہے۔ وزیر نے تصدیق کی کہ حکومتی اخباروں کے لیے تحریر کرنے والے بعض لکھاریوں کا معاوضہ ایک کالم کے لیے 500 شامی لیرہ یعنی ایک امریکی ڈالر سے بھی کم ہے۔

بشار حکومت کی وزارت اطلاعات دو سیٹلائٹ چینل اور ایک ریڈیو اسٹیشن بند کر چکی ہے جو گزشتہ صدی کی 60ء کی دہائی سے کام کر رہے تھے۔ ان میں کام کرنے والے عملے کو دیگر حکومتی اداروں میں منتقل کر دیا گیا۔

مختلف رپورٹوں میں لگائے گئے اندازوں کے مطابق 2011 میں بشار حکومت کی جانب سے انقلابی تحریک کو کچلنے کے لیے مسلط کی گئی جنگ کے آغاز سے اب تک شام کی معیشت کو مجموعی طور پر تقریبا 300 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ اس دوران ملک کے اکثر علاقے تباہ حال کھنڈرات کا نقشہ پیش کر رہے ہیں۔

عالمی بینک کی جانب سے رواں برس جولائی میں جاری ایک رپورٹ میں جنگ کے نتیجے میں شام کی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ 226 ارب ڈالر لگایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق جنگ کے سبب ملک میں ایک تہائی رہائشی عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔

عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں باور کرایا ہے کہ ہر 10 میں سے 6 شامی باشندے اس وقت شدید غربت کا شکار ہیں۔