.

’پی ایل او‘ کے دفاتر بند کیے تو امریکا سے رابطے معطل کر دیں گے‘

امریکی دھمکیوں کے بعد فلسطینی اتھارٹی کا واشنگٹن کو دو ٹوک جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تنظیم آزادی فلسطین نے امریکی دھمکیوں کا دو ٹوک جواب دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن میں فلسطینی مشن بند کیا گیا تو امریکا سے ہرطرح کے رابطے ختم کردیے جائیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطاباق پی اویل کے سیکرٹری جنرل صائب عریقات نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں کہا کہ تنظیم نے امریکا کو باضابطہ طورپر بتا دیا ہے کہ اگر ’پی ایل او‘ کے واشنگٹن میں مراکز بند کئے گئے دفاتر کھولے جانے تک امریکی انتظامیہ سے تمام روابط معطل کردیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ ا مریکا نے ہفتے کے روز اپنے ایک بیان میں دھمکی دی ہے کہ اگر تنظیم آزادی فلسطین [پی ایل او] نے اسرائیل کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کا آغاز نہیں کیا تو وہ امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں تنظیم کا دفتر بند کر دے گا۔

ایک امریکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی جانب سے امریکی قانون کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا جا رہا ہے جو اس بات کی ضرورت پر زور دیتا ہے کہ اگر فلسطینیوں نے عالمی فوجداری عدالت کو اسرائیل کے خلاف عدالتی کارروائی پر مجبور کیا تو پی ایل او کے دفتر کی بندش عمل میں لائی جائے۔

ایجنسی نے وزارت خارجہ کے ایک ذریعے کے حوالے سے یہ بھی بتایا کہ فلسطینی صدر محمود عباس اس لائن کو اُس وقت پار کر چکے ہیں جب انہوں نے عالمی فوجداری عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی کارروائیوں کی تحقیقات اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔

مذکورہ ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ کے پاس 90 دن کا وقت ہے جس میں وہ فیصلہ کریں گے کہ آیا فلسطین؛ اسرائیل کے ساتھ براہ راست اور با معنی مذاکرات میں شریک ہے یا نہیں۔ اگر امریکی صدر نے مثبت فیصلہ کیا تو پھر فلسطینی اپنے مشن کا دفتر برقرار رکھنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔