.

امریکی CIA کی رپورٹ میں قطر انسانی اسمگلنگ کا مرکز قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی انٹیلی جنس نے قطر کو انسانی اسمگلنگ کے مراکز کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ امریکی CIA کی جانب سے جاری سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افرادی قوت جن میں اکثریت غیر ملکیوں کی ہوتی ہے.. قانونی طور پر ایسے کاموں کے لیے قطر ہجرت کرتی ہے جن میں تھوڑی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم اکثر و بیشتر انہیں جبری مشقت جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان میں تنخواہوں میں تاخیر یا ان کی عدم ادائیگی ، پاسپورٹوں کا ضبط کیا جانا ، برا سلوک ، خطرناک حالات میں کام کرنا اور قرضوں کے سبب جبری قید شامل ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گھروں میں کام کرنے والی غیر ملکی خادمات کو خاص طور پر اسمگلنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے کہ وہ گھروں میں تنہا ہوتی ہیں اور انہیں قطر میں کام کے قوانین کے مطابق تحفظ میسر نہیں ہوتا ہے۔

امریکی CIA نے دوحہ پر الزام عائد کیا کہ وہ انسانی اسمگلنگ پر قابو پانے کے لیے عالمی معیارات پر پوری طرح کاربند نہیں ہے۔ اس سلسلے میں دلیل کے طور پر یہ بات پیش کی گئی ہے کہ قطری حکومت نے انسانی اسمگلنگ سے متعلق 11 مقدمات کی تحقیقات کیں تاہم ان میں کسی ایک مجرم پر بھی فردِ جرم عائد نہیں کی گئی اور نہ سزا دی گئی۔ ان عناصر میں استحصال کے مرتکب مالکان اور نوکری کے لیے بھرتی کرنے والی کمپنیاں شامل تھیں۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قطر کو تقریبا 20 لاکھ کام کرنے والوں کے بدترین حالات کی وجہ سے وسیع پیمانے پر نکتہ چینی کا سامنا ہے۔