.

تہران سے اسامہ بن لادن کی بیٹی کے فرار کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایبٹ آباد آپریشن کے دوران امریکی فوج کے ہاتھ لگنے والی دستاویزات سے منظر عام پر آنے والے سربستہ رازوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

ان دستاویزات کے ذریعے القاعدہ تنظیم اور اسامہ بن لادن کے ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ قریبی تعلقات کے خفیہ پہلو بھی اِفشا ہوئے یہاں تک کہ تنظیم کی قیادت نے جنگجوؤں کے استقبال کے لیے سنجیدگی کے ساتھ ایران ایک دفتر قائم کرنے کا سوچ لیا تھا۔ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے جن تین خطوں کی آگاہی حاصل کی ان میں بن لادن کے اہل خانہ اور تہران میں تنظیم کی قیادت کے ناموں اور ان کے قیام کی تفصیلات سامنے آئیں جب کہ انہیں ایرانی شہروں کے درمیان فضائی یا ٹرین کے سفر کی پوری آزادی حاصل تھی۔ علاوہ ازیں اسامہ بن لادن کی بیٹی ایمان کے فرار اور 2009 میں تہران میں سعودی سفارت خانے میں پناہ کی رُوداد کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

ان خطوط میں نمایاں ترین خط ابو سہل کا ہے جو القاعدہ کا ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ رابطہ کار تھا۔ القاعدہ کے حالیہ سربراہ ایمن الظواہری کے داماد ابو سہل نے ایران میں 7 برس گزارے۔ اس نے القاعدہ کے عسکری ذمّے دار "سيف العدل" کے ساتھ ایران سے کوچ کیا۔

ابو سہل نے اسامہ بن لادن کو لکھے گئے ایک اہم خط میں بتایا کہ "میں تین برس سے برادران عزیز اور مشائخ کرام کے ساتھ ہوں۔ ان میں ابو الخیر ، ابو محمد الزيات ، سيف العدل ، ابو حفص الموريتانی ، ابو غيث ، محمد شوقی الاسلامبولی اور آپ کے معزز صاحبزادے عثمان ، محمد ، حمزہ ، اور لادن شامل ہیں اور یہ سب میرے عزیز دوست ہیں"۔

ابو سہل نے اسامہ کو افغانستان میں ایک ڈرون حملے میں اس کے بیٹے سعد کے جاں بحق ہونے کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا جو ایران سے فرار ہو کر وہاں پہنچا تھا۔ ابو سہل کے مطابق سعد کے فرار ہونے کے بعد ایرانیوں نے اسامہ کے بیٹے کے فرار ہونے کے حوالے سے تحقیقات شروع کر دیں اور ابو سہل پر الزام عائد کیا کہ اس نے سعد کو فرار ہونے میں مدد دی ہے۔ ابو سہل نے خط میں بتایا کہ سعد کے فرار کے بعد وہ اسی گھر میں تھا جہاں سيف العدل ، عثمان ، محمد ، حمزہ ، لادن اپنے گھر والوں کے ساتھ اور حجن ام حمزہ (اسامہ کی زوجہ) ، اسامہ کی بیٹی ایمان اور سعد کے اہل خانہ رہائش پذیر تھے۔

ابو سہل نے یہ بھی بتایا کہ سعد کے فرار کے دو ماہ بعد ایرانیوں نے دباؤ کم کر دیا اور پھر سے بازار اور ڈاکٹر کے پاس جانے کی اجازت دے دی۔ اس کے علاوہ یزد سے تہران آمد و رفت کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ عثمان ، محمد اور حمزہ اپنی والدہ اور بہن کے ساتھ ہر تین ماہ میں یزد سے تہران آ کر اپنی بڑی بہن یعنی ابو غیث کی زوجہ سے ملاقات کیا کرتے تھے۔

ابو سہل نے اسامہ کے بیٹنے حمزہ کے شرعی علوم کے اسباق کے واسطے تہران منتقل ہونے کا بھی ذکر کیا۔ یہ اسباق ابو حفص الموریتانی کی جانب سے ہوتے تھے۔ ایک برس یزد شہر میں قیام کے بعد اسامہ کے اہل خانہ اور القاعدہ کی قیادت سب لوگ تہران منتقل ہو گئے۔ یہاں آ کر اسامہ کے اہل خانہ کی وزیرستان منتقلی کے وعدے شروع ہو گئے تاہم ایرانی حکام کی جانب سے مختلف بہانوں کے ذریعے کئی ماہ تک ٹال مٹول کا سلسلہ جاری رہا۔ آخری سال ایرانی حکام نے ان تمام لوگوں کو ہفتے میں دو گھنٹے کے لیے انٹرنیٹ کی سہولت بھی فراہم کر دی تھی تاہم اس دوران ای میل بھیجنے پر پابندی تھی۔

ایران کی جانب سے مسلسل تاخیر کے بعد اسامہ کی بیٹی ایمان نے یہ منصوبہ تیار کیا کہ عید الاضحی سے قبل عید کے کپڑے لینے کے لیے ام حمزہ اور سعد کی بیوی کے ساتھ گھر سے باہر جانے کے دوران اپنے بھائی لادن کے ساتھ فرار ہو جائے گی۔ ابو سہل نے اسامہ کو بتایا کہ "دو مرد اور ایک خاتون ان پر پہرہ دے رہے تھے اس دوران آپ کی بیٹی ایمان خاتون کو چکمہ دے کر دکان سے نکل گئی اور سعودی سفارت خانے میں داخل ہو گئی۔ ایرانیوں نے تحقیقات کے لیے عثمان ، حمزہ اور احمد کو حراست میں لے لیا اور چند گھنٹے بعد تمام اہل خانہ گھر واپس آ گئے"۔

ابو سہل کے مطابق "لادن نے بتایا کہ وہ پہرے کی سختی کے سبب اپنی بہن کے ساتھ فرار ہو کر سعودی سفارت خانے میں نہیں جا سکا جب کہ اس کی بہن یہ سمجھ رہی تھی کہ وہ پیچھے آ جائے گا"۔ پانچ روز بعد شام میں موجود اسامہ کی بیوی ام عبداللہ نےsms کے ذریعے ام حمزہ سے رابطہ کیا اور بتایا کہ سعودی سفارت خانے نے ایمان کو ذاتی فون فراہم کر دیا ہے اور وہ مسلسل ام عبداللہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔

ابو سہل کی اسامہ کو ارسال کردہ رپورٹ کے مطابق ایرانیوں نے ایمان کی سعودی عرب واپسی کو قبول نہیں کیا۔ انہوں نے اسامہ کے بیٹے عثمان کے ذریعے پیغام بھجوایا کہ شام میں موجود ام عبداللہ دمشق میں ایرانی سفارت خانے سے درخواست کرے کہ وہ ایمان کو ایران سے شام آنے کی اجازت دی جائے۔ ایرانیوں نے عثمان اور اس کے بھائیوں کو بتایا کہ شام جانے کے لیے آمادہ ہونے تک ایمان سعودی سفارت خانے میں ہی رہے گی۔

تین ہفتے گزرنے کے بعد ایرانی انٹیلیجنس کا ایک ذمے دار ابو محمد اسامہ کے بیٹے لادن کو لے کر شام چلا گیا اور وہاں اس کی ماں کے گھر تک پہنچایا۔ ابوسہل کے مطابق ایرانی انٹیلیجنس کا ایک ذمے دار اسامہ کے بیٹوں کے پاس آیا اور آگاہ کیا کہ ایمان کے فرار ہونے کے بعد القاعدہ کا باب بند کرنا نا گزیر ہے اور ایرانی حکام سنجیدگی کے ساتھ ان لوگوں کے بیرون ملک بھیجنا شروع کر دیں گے۔ ذمے دار کے مطابق ایرانی ان تمام لوگوں کو شام بھیجنے میں دل چسپی رکھتے ہیں جہاں ان کا خیر مقدم کیا جائے گا۔

اس کے مقابل عثمان اور محمد نے ایرانیوں سے مطالبہ کیا کہ انہیں وزیرستان منتقل کیا جائے۔ اسی طرح حمزہ اور اس کی ماں کو بھی ۔۔ البتہ ایرانی ہدایات کے مطابق سیف العدل اور ابو حفص الموریتانی کو سب سے آخر میں آزاد کیا جانا تھا۔ ابو سہل نے اپنے طویل خط کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ "میں نے اور برادر ابو جہاد المصری کے بیٹے ہارون نے آپ کے تمام بیٹوں کو چھوڑا کیوں کہ ہم اس گروپ کے ہراول دستے کی حیثِت رکھتے تھے۔ اور یہ راستہ نیا تھا جس پر پہلے کوئی نہیں گیا۔ اس واسطے ایرانیوں نے چاہا کہ ہمیں راستے کے تجربے کے لیے استعمال کیا جائے"۔

ایمان کے تہران میں سعودی سفارت خانے میں پناہ لینے اور القاعدہ کے سربراہ کے گھرانے کے ایرانی انٹیلیجنس کے زیر حفاظت قیام کی خبر اِفشا ہونے سے قبل دیگر خطوط نے اس بات کا انکشاف کیا کہ ایران نے 2004 سے 2008 کے درمیان القاعدہ کے کئی رہ نماؤں کو رہا کیا۔

ان ہی میں سے ایک خط میں عطیہ اللہ نے اسامہ بن لادن کو ایران کے ہاتھوں القاعدہ کی صفِ دوم اور سوم کی قیادت کی رہائی کا پس منظر بیان کیا۔ یہ دراصل ایران کے تجارتی قونصل کی رہائی کے مقابل عمل میں آنے والی کارروائی تھی جس کو القاعدہ نے 2008 میں پشاور میں اغوا کر لیا تھا۔ یہ پوری کارروائی زاہدان میں ایک بلوچ کی وساطت سے عمل میں آئی۔

ایک اور خط میں "مکارم" کی عرفیت رکھنے والے شخص نے القاعدہ کی قیادت کو الزرقاوی کے اس کردار کے بارے میں آگاہ کیا جو اُس نے بغداد میں ایرانی تجارتی قونصل کے حوالے سے ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ مذاکرات میں ادا کیا۔ مذکورہ قونصل کو 2004 میں فلوجہ کے معرکے کے بعد اغوا کر لیا گیا تھا۔ مکارم نے خط میں بتایا کہ "تمام لوگوں کا اصرار تھا کہ ہم اپنے قید بھائیوں کے حوالے سے اس قیدی کے ساتھ انتہائی سخت لہجے کاپیغام ایران کو بھیجیں۔ تا کہ وہ اپنے پاس قید میں موجود ناموں کو میڈیا میں اِفشا کرنے کا سلسلہ روک دے۔ تہران پہلے ہی سيف العدل ، ابو غيث اور ابو محمد وغیرہ کے نام اِفشا کر چکا تھا اور ان کو دھمکی بھی دی گئی کہ وہ عراق کے معاملات میں مداخلت نہ کریں۔ بعد ازاں ایران نے واقعتا میڈیا میں نئے ناموں کو نہیں پھیلایا اور جیل میں موجود القاعدہ ارکان کے ساتھ معاملے میں نرمی برتنا شروع کر دی"۔

ایران میں القاعدہ تنظیم کے جغرافیائی ٹھکانے کا پتہ تہران میں موجود ابو صالح کے ایک خط سے ہوتا ہے۔ اس نے خط میں عسکری ، مادی اور میڈیا کے حوالے سے القاعدہ تنظیم کی تیاری کے علاوہ ایران میں القاعدہ تنظیم کا ایک دفتر قائم کرنے کے خیال پر روشنی ڈالی جہاں جنگجوؤں کا استقبال کیا جا سکے اور وہاں سے انہیں ایران سے باہر سفر پر روانہ کیا جائے۔