.

عراق: عدالتِ عظمیٰ نے کردستان میں ریفرینڈم کو غیر آئینی قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی عدالت ِعظمیٰ نے 25 ستمبر کو ملک کے خود مختار شمالی علاقے کردستان میں آزادی کے نام پر منعقدہ ریفرینڈم کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے اور اس کے نتائج اور جملہ مضمرات کو منسوخ کردیا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے گذشتہ ہفتے کردوں کے آزادی ریفر ینڈم کی آئینی حیثیت سے متعلق کیس کی سماعت مکمل کر لی تھی اور فیصلہ سنانے کے لیے 20 نومبر کی تاریخ مقرر کی تھی۔اس کے بعد کردستان کی علاقائی حکومت نے کہا تھا کہ وہ اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلے کا احترام کرے گی۔اس نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ عراق کے اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے ماضی کے فیصلوں کا بھی احترام کرے گی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گذشتہ ماہ عراقی حکومت اور کردستان کے علاقائی لیڈروں پر زور دیا تھا کہ وہ آزادی ریفرینڈم کے انعقاد کے بعد پیدا ہونے والے بحران کے خاتمے کے لیے ایک نظام الاوقات مقرر کریں۔

اس سے پہلے بغداد حکومت نے کرد لیڈروں کی ریفرینڈم کے نتائج کو منجمد کرنے اور بحران کے حل کے لیے بات چیت کی پیش کش کو مسترد کردیا تھا۔ عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے اس پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریفرینڈم اور اس کے نتائج کو سرے سے ہی منسوخ کردیا جائے۔

کردستان کے سابق علاقائی صدر مسعود بارزانی نے کردوں کی خود مختار ریاست کے قیام کی امید پر یہ ریفرینڈم منعقد کرایا تھا اور اس متنازع ریفرینڈم میں قریباً 93 فی صد کرد ووٹروں نے اپنے خطے کی آزادی کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن اس کے کردستان اور اس کے لیڈروں کے لیے منفی نتائج برآمد ہوئے ہیں۔مسعود بارزانی کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں اور بغداد اور اربیل کے درمیان تمام متنازعہ علاقوں پر عراقی فورسز نے قبضہ کر لیا ہے۔ ان میں تیل کی دولت سے مالا مال صوبہ کرکوک بھی شامل ہے۔