.

لبنان میں 1982 سے اب تک ایرانی کارروائیوں کی تاریخ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب ممالک کے معاملات میں ایران کی مداخلتوں کا سلسلہ اُن دہشت گرد کارروائیوں سے واضح ہو جاتا ہے جو تہران نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے لبنان میں انجام دیں۔ لبنان میں خانہ جنگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران نے گزشتہ صدی کی 80ء کی دہائی سے یہ سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

ایران نے حزب اللہ ملیشیا کو استعمال کرتے ہوئے لبنان کو دیگر عرب اور غیر عرب ممالک کے ساتھ معاندانہ پوزیشن میں رکھنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔

ایران نے 80ء کی دہائی کے دوران پاسداران انقلاب ، حزب اللہ اور حزب الدعوہ کو بیرون ملک اپنے انقلاب کے دست بازو کے طور پر استعمال کیا جس کا مرکزی مقصد عرب سرزمین کو کام میں لا کر مغربی مفادات پر دباؤ ڈالنا تھا۔

لبنان میں ایران کی نمایاں ترین کارروائی 1982 میں دیکھنے میں آئی جب بیروت میں ایک حملے کے نتیجے میں امریکی بحریہ کے 241 ارکان ہلاک ہو گئے۔ یہ کارروائی ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک رکن اسماعیل عسکری نے کی۔

حزب اللہ اور حزب الدعوہ ملیشیاؤں نے بھی یکے بعد دیگرے حملوں کا سلسلہ جاری رکھا جس کے دوران لبنان میں سفارتی مشنوں بالخصوص امریکی اور فرانسیسی سفارت کاروں کو نشانہ بنانے کے علاوہ مختلف شخصیات کو اغوا کرنے کی کارروائیاں بھی شامل رہیں۔

سال 1982 لبنان میں غیر ملکیوں کے لیے غیر محفوظ ترین سال رہا۔ ایران سے مربوط ملیشیاؤں نے ایک ہی کھیپ میں 96 غیر ملکی شہریوں کو اغوا کر لیا۔ اگلے دس برسوں تک مغربی ممالک ان افراد کی رہائی کے لیے ایران کے ساتھ مذاکرات کرتے رہے۔

لبنان میں خانہ جنگی ختم کرنے کے لیے طے پانے والے "طائف معاہدے" کے بعد بھی حزب اللہ ملیشیا نے اسرائیل کے خلاف مزاحمت کے نام پر اپنا اسلحہ برقرار رکھا۔

تاہم اسرائیل 2000ء میں لبنان سے نکل گیا البتہ ہتھیار باقی رہ گئے بلکہ ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا۔ اس امر کا عملی شاخسانہ 7 مئی 2008 کو سامنے آیا جب حزب اللہ نے دیگر لبنانی فریقوں کے ساتھ سیاسی اختلاف کے سبب دارالحکومت بیروت پر قبضہ کر لیا۔