.

ہمیں قطر بحران سے زیادہ اہم ایشوز درپیش ہیں: سعودی وزیر خارجہ

ہم قطریوں کی بھلائی چاہتے ہیں،انھیں دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ قطر ایک چھوٹا معاملہ ہے اور ہمیں اس سے بڑے اور قابل توجہ مسائل درپیش ہیں۔

انھوں نے عرب وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس کے موقع پر مصری اخبارات کے مدیروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’عرب قومی سلامتی کو درپیش ایرانی خطرہ ، دہشت گردی کے خلاف جنگ ،شامی بحران ، لیبیا اور یمن کا استحکام ، داخلی ترقی ، سعودی عرب میں ویژن 2030ء پر عمل درآمد اور اصلاحات قطر بحران سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں قطری موضوع پر خود کو زیادہ تشویش میں مبتلا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے بتایا کہ بائیکاٹ کرنے والے چار ممالک نے قطر کو ایک پیغام بھیجا ہے اور اس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کی مالی معاونت بند کردے۔

عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ عرب گروپ چار کے قطر سے مطالبات چھے اصولوں پر مبنی ہیں لیکن قطر نے کسی بھی مسئلے کی موجودگی ہی کا سرے سے انکار کردیا ہے۔ہم نے ان سے کہا ہے کہ وہ حالتِ انکار سے نکلیں اور نظرثانی کے مرحلے اور مسئلے کے حل کی جانب آگے بڑھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ ہم ان کے لیے بھلائی ہی چاہتے ہیں ۔انھیں دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے اور لوگوں کو خود کش بم دھماکوں کے جواز کے لیے کوئی پلیٹ فارم نہیں ملنا چاہیے۔ انھیں ( قطریوں کو) ان افراد کو مہمان نہیں بنانا چاہیے جو دہشت گردی کی مالی معاونت میں ملوث ہیں اور قطر میں اخوان المسلمون سمیت دہشت گرد عناصر کو کارروائیوں کی اجازت نہیں ہونی چاہیے‘‘۔

عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ ’’قطر ی بائیکاٹ کرنے والے ممالک کے اقدامات کو ’’ ناکا بندی‘‘ کا نام دے رہے ہیں لیکن ناکا بندی تو یہ ہوتی جب قطر کی فضائی حدود میں لڑاکا طیارے پرواز کررہے ہوتے اور جنگی بحری جہاز سمندری حدود میں ہوتے‘‘۔انھوں نے بائیکاٹ کرنے والے ممالک کی لاتعلقی کو ’’ بائیکاٹ‘‘ ہی قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ قطر مسئلے کو تسلیم کرنے کے بجائے باقی سب کچھ کررہا ہے۔ اگر وہ مسئلے کو تسلیم کر لیتا ہے تو یہ کوئی غلطی نہیں ہو گی بلکہ یہ ایک مثبت قدم ہو گا کیونکہ یہ مسئلے کےحل کی جانب کی ایک اہم قدم ہے۔