.

’محترمہ مصرمیں لوگ آپ کو’لعنتی مرد‘ کہتے ہیں‘

انورسادات کے دورہ اسرائیل کےیادگار دلچسپ واقعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج سے چالیس برس پیشتر 19 نومبرکواس وقت کےمصری صدر انور سادات کے دورہ بیت المقدس کے دوران قاہرہ اور تل ابیب کے درمیان دوطرفہ تعلقات کا آغاز ہوا وہیں سادات کےاس دورے سےوابستہ بعض ایسے دلچسپ واقعات بھی شامل جو ان کی حس لطیف کا بھی واضح ثبوت ہیں۔ مرحوم مصری صدر کے دورہ اسرائیل کے موقع پر پیش آنے والے بعض واقعات کو العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اپنی رپورٹ میں شامل کیا ہے۔ دلچسپ ہونے کے ساتھ بعض حیران کن اور قدرے شرم سار کرنےوالے واقعات بھی شامل ہیں۔

ان میں ایک دلچسپ واقعہ انورسادات کے ہوائی جہاز سے تل ابیب آمد اور ان کے استقبال کے موقع پرپیش آیا۔ ہوائی اڈے پر انور سادات کے استقبال کے لیے سابق وزیراعظم مسز گولڈا مائیر بھی موجود تھیں۔ انور سادات نے سب کے ساتھ مصافحہ کیا۔ مسز مائر سے مسکرا کر ملے اور کہنے لگے محترمہ کیا آپ کو پتا ہے کہ مصرمیں لوگ آپ کو کیاسمجھتے ہیں؟ اس سوال پر ان کے چہرے پرحیرت واستعجاب کے ملے جلے تاثرات ظاہر ہوئے۔ انہوں نے پوچھا ’جناب صدر!مصر میں لوگ میرے بارے میں کیا سمجھتے ہیں تو انور سادات نے جواب دیا ‘لوگ آپ کو لعنتی مرد‘ خیال کرتے ہیں۔

گولڈا مائیر کچھ لمحے چپ رہیں اور اچانک خاموشی توڑ کر بولیں’صدر محترم میں اسے بھی لوگوں کی طرف سے اپنی تعریف ہی سمجھوں گی۔ اس پر انور سادات اور دیگر حاضرین بھی کھل کھلا کرہنسے۔ اس کے بعد انور سادات نے دیگر میزبانوں کے ساتھ بھی ہاتھ ملایا۔

اگلے روز شام کے وقت انور سادات نے اسرائیلی کنیست[ پارلیمان] سے خطاب کیا۔ اس کے بعد اسرائیلی وزیراعظم گولڈا مایئر نے بھی تقریر کی۔ انہوں نے کہا کہ ’میں ایک بوڑھی عورت ہوں۔ میں آج کے اس پرمسرت دن کی متمنی تھی۔ آج کا دن اسرائیل اور اس کے پڑوسیوں کے درمیان امن کا دن ہے۔

اس پر انور سادات مسکرائے۔ مسز مایئر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جناب صدر آپ ہمیشہ مجھے بوڑھی عورت کہتے تھے۔ آج آپ بھی میری طرح بوڑھے ہوچکے ہیں۔ اس موقع پر میں آپ کو نئے پوتے کی مبارک باد پش کرتی ہوں۔ یہ میری طرف سے آپ کے لیے اس موقع کی مناسبت سے ایک تحفہ ہے۔ اسی روز انور سادات ایک نئے پوتے کے دادا بنے تھے۔

انور سادات نے اسرائیلی وزیراعظم مناخیم بیگن سے بھی دو ملاقاتیں کیں۔ ایک ملاقات میں مسٹر بیگن نے انور سادات سےکہا کہ وہ انہیں قاہرہ اور جزیرہ سیناء کےدورے کے دعوت دیں۔ اس پر انور سادات نے مذمت کے انداز میں ناک بھوں چڑھا کر استفسار کے انداز میں پوچھا ’جزیرہ سیناء؟۔ اگر آپ جزیرہ سیناء میں ملنا چاہتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں تو میں ایسا کرنے کو تیارہوں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب جزیرہ سیناء ابھی اسرائیل کے قبضے میں تھا۔

اسی ملاقات میں بیگن نے عربوں کے ساتھ مذاکرات بھی کیے۔ انور سادات سے کہا کہ ہم مذاکرات کی ایک گرم لکیر قائم کریں گے۔ اس پراسرائیلی وزیراعظم نے کہاکہ وہ گرم محاذ اور جنگ سے خائف ہیں۔

اسرائیلی کنیسٹ سےانور سادات کی تقریر کئی اشاروں اور مبہم باتوں سے بھرپور تھی۔ اس تقریر نے صہیونی لیڈروں کے تکبر اور غرور کی کمرتوڑ دی تھی۔ ایک جگہ انہوں نے کہا کہ میں اسرائیل کو ایک حقیقت کے طور پرتسلیم کرتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے ساتھ معاہدے کے لیے بھی تیار ہوں مگر اسے یہودی ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کریں گے۔

قصہ مختصر انور سادات کا دورہ القدس حیران کن اور ناقابل یقین نتائج کا حامل رہا۔ دونوں ملکوں کے درمیان کیمپ ڈیوڈ معاہدہ ہوا۔ یہ معاہدہ عرب ممالک اور اسرائیل بالخصوص مصر اور اسرائیل کے درمیان صلح کا نقطہ آغاز تھا۔