.

ایران اور بشار کے بیچ اسلحہ کارخانوں اور پاسداران کی بقاء کے معاہدے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی فوج کے چیف آف اسٹاف محمد باقری کے گزشتہ ماہ دمشق کے دورے اور وہاں شامی صدر بشار الاسد سے ملاقات کے نتیجے میں ایسے معاہدے سامنے آئے جن کے تحت شام میں جنگ کے خاتمے کے بعد بھی ایران کا عسکری وجود باقی رہے گا۔

اس سلسلے میں ایرانی اپوزیشن کی تنظیم "ایرانی مزاحمت کی قومی کونسل" نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے کچھ عرصہ قبل بشار الاسد کی شامی حکومت کے ساتھ چند معاہدوں پر دستخط کیے ہیں جن کے تحت شام میں ہتھیاروں کے کارخانے بنائے جائیں گے اور پاسداران انقلاب کی فورسز وہاں باقی رہیں گی۔

اپوزیشن کی اس مذکورہ کونسل کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی چیف آف اسٹاف نے 17 اکتوبر کو شام کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔ اس دورے میں شامی وزیر دفاع اور شامی چیف آف اسٹاف کے ساتھ کئی معاہدوں پر اتفاق رائے کے بعد دستخط کیے گئے۔ یہ پیش رفت ایرانی سپریم رہ نما علی خامنہ ای کے براہ راست حکم پر سامنے آئی۔

بیان کے مطابق باقری اور بشار الاسد کی حکومت کے درمیان جن دیگر امور پر موافقت ہوئی ان میں شام کی جنگ میں ایرانی نظام کے لیے عسکری اخراجات کی از سر نو منصوبہ بندی شامل ہے۔

یہ تمام معاہدے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اس قرار داد پر متفق ہو گئی ہے جس میں شام سے ایرانی فورسز اور اس کی ملیشیاؤں کے انخلاء کا مطالبہ کیا گیا۔

ایرانی نظام کی قیادت اب اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ شام اور عراق میں بڑے پیمانے پر عسکری وجود اور "تہران – بغداد – دمشق – بيروت" تزویراتی زمینی لائن کو یقینی بنا کر ان کی حدود بحیرہ روم کے وسط تک پہنچ گئی ہیں۔

علاوہ ازیں "ایرانی ہلال" کے اس منصوبے کی تکمیل کے بارے میں بھی بات کی جا رہی ہے جس کا خواب ولایت فقیہ کا نظام 4 دہائیوں سے دیکھ رہا ہے اور وہ اس پر اربوں ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایران نے خطے کے ممالک میں دراندازی اور توسیع کے واسطے مسلح ملیشیائیں اور گروپ تیار کیے۔