.

شامی موافقت کے بغیر بحران کا کوئی حل نہیں : عادل الجبیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب ہمیشہ کی طرح شامی عوام کے ساتھ کھڑا ہے تا کہ ایک منصفانہ حل تک پہنچنے کے حوالے سے اس کی امیدیں پوری ہو سکیں۔ الجبیر نے یہ بات بدھ کے روز ریاض میں شامی اپوزیشن کی کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں کہی۔ کانفرنس میں شامی وفود کے علاوہ اقوام متحدہ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی میستورا بھی شریک ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ نے باور کرایا کہ شام کے بحران کے لیے شامی موافقت کے ساتھ ایک ایسا حل نا گزیر ہے جو شامی عوام کی امیدوں کو یقینی بنائے اور جنیوا 1 اعلامیے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کی بنیاد پر شامیوں کے دکھوں اور مسائل کا خاتمہ کرے۔

عادل الجبیر نے کانفرنس میں شامی شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "آپ لوگوں پر آج ایک تاریخی ذمے داری عائد ہوتی ہے تا کہ اُس بحران سے نجات حاصل کریں جس نے اس عزیز عوام کو تھکا ڈالا ہے اور ساتھ ہی مطلوبہ حل کو یقینی بنائیں اور ایک نئے مستقبل کی طرف منتقل ہوں۔ شامی عوام ہر جگہ آپ لوگوں کی جانب امید کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور آپ لوگوں کی طرف سے نمایاں نتائج کے منتظر ہیں تا کہ ان کی توقعات پوری ہو سکیں"۔

ادھر شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی میستورا کا کہنا ہے کہ "شام کے مستقبل کو سامنے رکھنا نا گزیر ہے۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق سام کے بحران کا سیاسی حل تلاش کرنے کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں"۔

انہوں نے باور کرایا کہ شام میں ایک بڑی جنگ نے خطے کو متاثر کیا ہے۔

ڈی میستورا کے مطابق آئندہ چند روز میں ہم شام میں سیاسی عمل کے لیے ایک فریم وضع کر دیں گے۔ انہوں نے باور کرایا کہ "ہم جنیوا میں شامی اپوزیشن کا ایک طاقت ور وفد چاہتے ہیں۔ اپوزیشن کے وفد پر لازم ہے کہ وہ عوام کے نمائندہ تمام فریقوں کو شامل کرے"۔

اس سے قبل ریاض میں بدھ کی صبح شامی اپوزیشن کی دو روزہ کانفرنس کا آغاز ہوا۔ کانفرنس میں 140 سے زیادہ شخصیات شریک ہیں جن میں سیاسی اور عسکری گروپوں اور جماعتوں کے عالوہ شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی میستورا بھی شامل ہیں۔ اس کانفرنس کا مقصد روس میں سُوشی کانفرنس سے قبل مواقف کی رابطہ کاری ہے۔ ماسکو کی جانب سے سُوشی کانفرنس کی دعوت داعش کے خاتمے کے بعد سیاسی بحران کے حل کے لیے ایک سیاسی منصوبے کو زیر بحث لانے کے لیے دی گئی ہے۔

توقع ہے کہ کانفرنس کے نتیجے میں آئین اور بشار کے انجام کے حوالے سے ایک موقف سامنے آئے گا۔
کانفرنس میں شریک فریقوں میں سر فہرست شامی قومی اتحاد ہے جس کے تقریبا 23 ارکان شریک ہیں۔ اس کے علاوہ قاہرہ گروپ کے 21 ارکان موجود ہیں۔

جہاں تک ماسکو گروپ کا تعلق ہے تو کانفرنس میں اس کے 8 ارکان شرکت کر رہے ہیں۔
اسی طرح عسکری گروپوں کی جانب سے 21 ارکان شریک ہیں۔

ان کے علاوہ ریاض کانفرنس میں ستّر سے زیادہ شامی قومی اور آزاد شخصیات اور مقامی کونسلوں کے ارکان بھی شریک ہیں۔
دوسری جانب روس کے شہر سُوشی میں آج بدھ کے روز شامی بحران پر بات چیت کے لیے روس ، ترکی اور ایران کا تین فریقی سربراہ اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ ترکی کے ایوان صدر کے مطابق اس اجلاس میں شام میں سیف زون میں جاری سرگرمیاں ، انسداد دہشت گردی کا جائزہ اور تشدد میں کمی کے حوالے سے پیش رفت کے علاوہ شام میں انسانی امداد کا پہنچایا جانا اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کے مطابق بحران کا سیاسی حل تلاش کیا جانا زیر غور آئے گا۔