.

عبوری دور میں بشار الاسد کا کوئی کردار نہیں ہوگا: شامی حزبِ اختلاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حزب اختلاف نے اپنے اس مطالبے کا اعادہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی ثالثی میں مستقبل میں طے پانے والے کسی امن معاہدے کے تحت عبوری دور میں صدر بشارالاسد کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔

شامی حزب اختلاف کے مندوبین نے سعودی دارالحکومت الریاض میں دوروزہ مشاورتی اجلاس کے بعد ایک اعلامیہ جاری کیا ہے اور اس میں کہا ہے کہ بشارالاسد کی رخصتی کے بغیر انتقال اقتدار کا عمل طے نہیں پاسکتا۔

شامی حزب اختلاف کا یہ دو روزہ اجلاس اقوام متحدہ کے زیر اہتمام جنیوا میں امن مذاکرات سے قبل طلب کیا گیا تھا اور مندوبین نے جنیوا مذاکرات میں کوئی مشترکہ موقف اپنانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

شام میں برسرزمین روس اور ایران کی فوجی مدد سے صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کی حالیہ مہینوں کے دوران میں باغیوں کے خلاف جنگی کامیابیوں کے پیش نظر یہ توقع کی جارہی تھی کہ شامی حزب اختلاف اب صدر اسد کے معاملے میں کوئی زیادہ سخت موقف نہیں اپنائے گی لیکن اس کے باوجود اس کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور وہ شامی صدر کی رخصتی کا مطالبہ کررہی ہے۔

اس اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اجلاس کے شرکاء نے اقوام متحدہ کے تحت ایک سیاسی عمل کی حمایت کی ہے ۔اس کے ذریعے شامی ایک بنیادی سیاسی انتقالِ اقتدار اور مطلق العنان حکمرانی سے جمہوریت کی جانب سفر کر سکیں گے اور ملک میں آزادانہ انتخابات کا انعقاد کرایا جاسکے گا۔

اجلاس میں شامی حزب اختلاف کے مختلف دھڑوں اور گروپوں سے تعلق رکھنے والے ایک سو چالیس سے زیادہ مندوبین نے شرکت کی ہے۔ان میں آزاد سیاسی گروپ اور جیش الحر میں شامل باغی دھڑے شامل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں جنیوا امن مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کا الزام شامی حکومت پر عاید کیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق ’’ اسد رجیم کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے سیاسی عمل اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکا ہے۔اس میں شہری علاقوں پر بمباری ، باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کے محاصرے اور ہزاروں حکومت مخالفین کو پابند سلاسل کرنے کے حوالے دیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ صدر بشارالاسد کی حکومت گذشتہ سات سال سے اپنے خلاف جنگ آزما تمام مزاحمتی گروپوں کو کچلنے کے لیے جنگ لڑرہی ہے۔اس کو روس کی فضائی مدد حاصل ہے ۔ ایران اور شیعہ ملیشیائیں اسدی فوج کے شانہ بشانہ باغیوں کے خلاف لڑرہی ہیں۔اس جنگ میں اب تک ساڑھے تین لاکھ کے لگ بھگ افراد ہلاک اور ایک کروڑ دس لاکھ شامی بے گھر ہو چکے ہیں۔وہ اندرون اور بیرون ملک در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں یا پھر انتہائی نامساعد حالات میں مہاجر کیمپوں میں گزر بسر کر رہے ہیں۔