.

لبنانی علاقائی امور کے بجائے اپنے ملک کو اولیت دیں : سعد الحریری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے وزیراعظم سعد الحریری نے اپنے ہم وطنوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی وفاداریوں سے قطع نظر علاقائی امور پر توجہ دینے کے بجائے اپنے ملک کو اولیت دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لبنان کا سیاسی بحران ہماری آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔

وہ 4 نومبر کو اپنے اچانک استعفے کے اعلان سے پیدا ہونے والے بحران کا حوالہ دے رہے تھے۔انھوں نے سعودی دارالحکومت الریاض سے ایک نشری تقریر میں مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا لیکن بدھ کو وطن واپسی کے بعد انھوں نے صدر میشل عون سے ملاقات کی ہے اور ان سے مشاورت کے بعد اپنا استعفیٰ واپس لے لیا ہے۔

سعد الحریری نے جمعرات کو بیروت میں منعقدہ سالانہ عرب بنک کاری کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’’گزرا ہوا وقت ہم سب کے لیے ایک سبق ہونا چاہیے اور ہمیں اپنے ارد گرد کے مسائل کی طرف دیکھنے کے بجائے لبنان کے مفادات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ’’ہمارے ارد گرد مسائل بہت اہم ہیں لیکن لبنان سب سے اہم ہے‘‘۔انھوں نے اس بات کی ضرورت پر زوردیا کہ لبنان کو علاقائی تنازعات سے دور رہنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہنا چاہیے اور ایسا صرف الفاظ سے نہیں بلکہ عمل سےبھی ہونا چاہیے‘‘۔

انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ’’ ہماری اصل تشویش ملکی استحکام ہے اور ہم اسی کے لیے کام کررہے ہیں‘‘۔

سعد الحریری نے بدھ کو اپنے استعفے کو موخر کرنے کے فیصلے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے ذمے دارانہ مکالمے کی راہ ہموار ہوگی۔اس سے اختلافی امور اور ان کے لبنان کے عرب بھائیوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے مضمرات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

ان کی قیادت میں مستقبل تحریک نے ایک بیان میں ان کے استعفا واپس لینے کے فیصلے کو ایک دانش مندانہ قدم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے بعد مزید مشاورت کی جاسکے گی۔