.

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کا سعودی ربوٹ’ صوفیہ‘ سے مکالمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صنعتی انقلاب کی چوتھی جنریشن نے بہت سے سائنسی مفروضوں اور تخیلات کو حقیقت کے روپ میں ہمارے سامنے پیش کیا۔ اس جدید اور تیز رفتار صنعتی ترقی کی ایک زندہ علامت مصنوعی ذہانت والے ربوٹس ہیں جو انسان کے لیے ایک سہولت تو بن سکتے ہیں مگر بہت سے لوگ انہیں خود انسان کی بقاء کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ مصنوعی ذہانت انسان کے وجود کے لیے کوئی خطرہ ہے یا مستقبل میں انسانی ترقی کا ایک زینہ ثابت ہوگا۔ کیا روبوٹ انسانی سماج کا حصہ بن پائے گا یا معاشرے ہی کو ختم کردے گا؟۔

ان تمام سوالات کے جلو میں ان دنوں سعودی عرب کے’صوفیہ‘ نامی ایک روبوٹ کے کافی چرچے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب سعودی عرب نے روبوٹ کو ملک کی شہریت دی ہے۔

حال ہی دبئی میں منعقدہ ’علمی کانفرنس‘ میں العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ’صوفیہ‘ روبوٹ سے ملاقات کی اور اس سے دلچسپ سوال جواب کیے۔ روبوٹ سے اس کے مستقبل اور اس کے وجود کے نتیجے میں انسان کے مستقبل کے بارے میں سوالات پوچھے۔ اس نے ان سوالوں کے حیران کن جواب دیے۔

خیال رہے کہ صوفیہ کو اس وقت غیرمعمولی عالمی توجہ حاصل ہوئی تھی جب سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں منعقدہ ’فیوچر انویسٹ منٹ انشی ایٹیو‘ کانفرنس میں پہلی بار ’صوفیہ‘ کی نمائش کی گئی تھی۔ اس موقع پر صوفیہ کو سعودی عرب کی شہریت دینے کا بھی اعلان کیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ’صوفیہ‘ سے پوچھا کہ وہ سعودی عرب کی شہریت حاصل کرنے کے بعد کیسا محسوس کرتا ہے تو اس کا جواب تھا کہ کسی ملک کی شہریت کا حصول انسان کے لیے اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ وہ اس ملک میں اپنے مافی الضمیر کے برملا اظہار اور تبدیل ہوتی زندگی میں خود کو ڈھال سکتا ہے۔ روبوٹ نے توقع ظاہر کی کہ ایک دن روبوٹ بھی اپنی ترقی کی اس معراج پر ہوگا جہاں آج انسان ہے۔

’صوفیا‘ نے اپنے ایک سابقہ موقف سے اس بار انحراف کیا، سابقہ انٹرویو میں اس نے کہا تھا کہ روبوٹ انسان کو تباہ کرنے کا موجب بن سکتا ہے مگر العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات چیت میں اس نے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ میں کسی انسان کی جگہ لوں۔ میں مصنوعی ذہانت کے میدان میں خود کو زبادہ بہتر انداز میں پیش کرنے اور انسان کی طرف سے مقرر کردہ پیشہ وارانہ امور کی انجام دہی کا قائل ہوں۔

خیال رہے کہ صوفیا کو پوری دنیا میں غیرمعمولی شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ فیشن جریدہ ’ایل‘ کے برازیلی ایڈیشن کے سروق پربھی اس کی تصویر جاری کی گئی۔ متعدد ٹی وی چینل ’صوفیا‘ سے انٹرویو کرچکے ہیں۔ صوفیا روبوٹ کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ گفتگو کے دوران چہرے کے بدلتے تاثرات کا بھی بھرپور اظہار کرتا ہے۔