.

بدعنوانی میں گرفتار 95 فیصد ملزمان لوٹی رقم واپسی کے لئے تیار: شہزادہ محمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے انکشاف کیا ہے کہ بدعنوانی کے الزام میں حراست میں لیے جانے والے % 95 افراد تصفیے اور مالی رقوم کی واپسی پر آمادہ ہو گئے ہیں۔

امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں شہزادہ محمد نے واضح کیا کہ ایک فی صد کے قریب افراد نے اپنی براءت ثابت کر دی اور ان کے مقدمات ختم ہو چکے ہیں۔ البتہ چار فی صد نے خود پر عائد بدعنوانی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے عدالت کا رخ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ سعودی ولی عہد کے مطابق اٹارنی جنرل نے توقع ظاہر کی ہے کہ تصفیے کے ذریعے واپس آنے والی رقم تقریبا 100 ارب ڈالر ہو گی۔

امریکی لکھاری تھامس فریڈمین کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے شہزادہ محمد نے کہا کہ یہ بات مضحکہ خیز ہے کہ بدعنوانی کے خاتمے کی مہم کو اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ قرار دیا جائے اس لیے کہ گرفتار ہونے والی نمایاں شخصیات پہلے ہی ان کے ہاتھ پر بیعت اور مجوزہ اصلاحات کے لیے حمایت کا اظہار کر چکی ہے۔

ہمارے ماہرین کے اندازوں کے مطابق گزشتہ برس حکومت کی جانب سے خرچ کی جانے والی مجموعی رقم کا 10% کے قریب حصّہ بدعنوانی کے ذریعے غبن کی نذر ہو گیا جس میں بالائی اور زیریں دونوں طبقے شامل رہے۔ ماضی میں بدعنوانی کے خلاف تمام مہمات ناکامی سے دوچار ہوئیں اس لیے کہ اُن میں صرف نچلے طبقے کو ہدف بنایا جاتا تھا۔

سعودی ولی عہد کے مطابق اُن کے والد نے 2015 کے اوائل میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنی ٹیم کو احکامات جاری کیے تھے کہ اونچے طبقے میں بدعنوانی سے متعلق تمام ڈیٹا جمع کیا جائے۔ اس ٹیم نے دو سال تک عرق ریزی اور محنت کے بعد 200 ناموں کا انکشاف کیا۔

بعد ازاں تمام معلومات اور ڈیٹا تیار ہو جانے کے بعد مملکت کے اٹارنی جنرل سعود المعجب نے ضروری اقدامات کیے۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے بتایا کہ ہم نے حراست میں لیے جانے والے تمام شہزادوں اور دیگر شخصیات کو وہ معلومات اور فائلیں دکھائیں جو ہم نے جمع کی تھیں۔

سعودی عرب کے قانون کے مطابق اٹارنی جنرل اپنے کام میں خود مختار اور آزاد ہیں اور کسی کے لیے ان کے کام میں مداخلت ممکن نہیں ہے۔ بادشاہ کے سوا کوئی انہیں سبک دوش نہیں کر سکتا تاہم اب فرماںروا خود اس کارروائی کی قیادت کر رہے ہیں۔ شہزادہ محمد کے مطابق ہمارے ماہرین موجود ہیں جن کی ذمّے داری ہے کہ وہ اس مہم کے سبب کسی بھی کمپنی کے دیوالیہ نہ ہونے کو یقینی بنائیں تا کہ کسی بھی قسم کی بے روزگاری کی صورت حال سے بچا جا سکے۔

سعودی ولی عہد کے مطابق ایسا کوئی طریقہ نہیں جس کے ذریعے تمام طبقات میں بدعنوانی پر قابو پایا جا سکے۔ اس واسطے آپ پر لازم ہے کہ ایک پیغام دیں جسے تمام لوگ سنجیدگی سے لیں۔ پیغام یہ ہے کہ "آپ اپنی کارستانی کے انجام سے بچ نہیں سکیں گے"۔ ہم نے واقعتا اس اقدام کے مؤثر ہونے کا مشاہدہ کیا ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ اُن سعودی کاروباری شخصیات کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی جنہوں نے اپنے قانونی مفادات کے لئے خود کو بلیک میل کرنے والے بیورو کریٹس کو رشوت دی۔ سعودی ولی عہد کے مطابق "حراست میں لیے گئے افراد ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے قمتوں میں اضافے اور رشوت کے حصول کے ذریعے ملک کی دولت ہتھیائی"۔