.

رواں سال کے اواخر تک روس، شام میں اپنی موجودگی کم کر دے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی فوج کے سربراہ نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ماسکو شام میں اپنے اہداف مکمل ہونے کے بعد اس سال کے آخر تک شام میں اپنی مداخلت کم کر دے گا۔

ایک سوال کے جواب میں جنرل ویلری جیرسموو کا کہنا تھا کہ "یقینا اس امر کا حتمی فیصلہ کمانڈر انچیف ہی کریں گے اور شام میں سرگرم گروپ کی تعداد کم کی جائے گی۔"

'ہم نے اپنے فوجی اہداف حاصل کر لئے ہیں، بہت کم ایسے امور ہیں کہ جو باقی رہ گئے ہیں۔ جنرل جیرسموو نے کہا کہ یہ انخلاء مکمل ہو گا، تاہم یہ نہیں واضح ہو سکا انخلاء اسی برس ہو گا یا اس کے لئے کوئی نئی تاریخ طے کی جائے گی۔

بمباری اور جنگ

انھوں نے بتایا کہ اگر روس نے شام میں لڑائی اور بمباری کم کرنے کا فیصلہ بھی کیا تو بھی اس کے کچھ فوجی روس میں رہیں گے۔ مصالحت کا مرکز، روس کے طرطوس شمالی اللاذقیہ میں فوجی اڈے اور دوسرا بنیادی ڈھانچہ اپنی موجودہ شکل میں برقرار رہے گا۔

روسی صدر ولادیمیر پیوتین نے شامی صدر بشار الاسد کے ساتھ حالیہ دنوں میں سفارتی ملاقاتیں کیں جس میں ترکی اور ایران بھی شریک تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام کو بطور ریاست بچا لیا گیا ہے اور اب شامی بحران ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

ماسکو نے 2015ء میں شام کے متنوع جنگی محاذ میں شرکت کی تھی اور بشار الاسد حکومت کی حمایت کے لئے اپنے لڑاکا طیارے ارسال کئے تھے، جس کے بعد فوجی توازن بشار الاسد کے حق میں ہو گیا تھا۔