.

شام میں اسرائیل کا خفیہ آپریشن اور رقّہ میں "داعش" کی جاسوسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رواں برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے تقریبا ایک ماہ بعد فروری میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی "موساد" نے شام کے شہر رِقّہ کے نزدیک دیہی علاقے میں ایک خفیہ آپریشن کیا۔ اس دوران "داعش" تنظیم میں ایک ایجنٹ کے ذریعے نصب کیے جانے والے جاسوسی کے آلات سے موساد کو انتہائی خطرناک معلومات موصول ہوئیں۔ ان معلومات کے مطابق داعش تنظیم القاعدہ کے ایک سابق رکن ابراہیم العسیری کے ذریعے "لیپ ٹاپ" میں دھماکا خیز مواد نصب کر کے مسافر طیاروں کو دھماکے سے اڑانے کی تیاریاں کر رہی تھی۔

مذکورہ آپریشن کے دوران اسرائیلی فوج کے خصوصی جاسوس یونٹ Sayeret Maktal نے دو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے شام کی سرزمین میں دراندازی کی۔ امریکی جریدے Vanity Fair کی رپورٹ کے مطابق ہیلی کاپٹروں سے اترنے کے وقت اسرائیلی اہل کار شامی فوج کی وردیوں میں ملبوس تھے۔ بعد ازاں انہوں نے جیپوں میں سوار ہو کر داعش تنظیم کے مرکز سے چند کلو میٹر کی دوری پر پڑاؤ ڈال لیا۔ داعش کے مرکز میں سرگرم ارکان لیپ ٹاپ کو دہشت گردی کے آلے میں تبدیل کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ موساد نے جاسوسی سے متعلق آوازوں کو سننے کے آلات کہاں نصب کیے تھے۔

اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت نے جمعرات کے روز نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جاسوسی کے آلات داعش کے مرکز میں اجلاس کے کمرے میں نصب کی گئے تھے۔ چند روز بعد موساد نے رقّہ میں داعش تنظیم کے خطرناک منصوبہ بندی کی حقیقت کا انکشاف کیا۔ اس کے فورا بعد امریکا اور برطانیہ کی جانب سے مسافروں پر پابندی عائد کر دی گئی کہ وہ طیارے میں اپنے ساتھ لیپ ٹاپ یا موبائل فون نہیں لا سکتے۔

موساد کا یہ آپریشن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بہت پسند آیا۔ انہوں نے رواں برس مئی میں واشنگٹن میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمر پیوتن کو شام میں اسرائیلی یونٹ کی کارروائی کی کار گزاری سنا دی۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف اسرائیلی آپریشن پر چراغ پا ہو گئے کیوں کہ اس طرح اس کے ایجنٹوں کی جان خطرے میں پڑ سکتی تھی۔ تاہم مبصرین نے واضح کیا کہ ٹرمپ کے اس انکشاف کا مقصد روس کو یہ نصیحت کرنا تھا کہ اگر وہ شام میں داعش تنظیم کا جلد خاتمہ چاہتا ہے تو اسے تل ابیب کا سہارا لینا چاہیے۔

امریکی جریدے Vanity Fair کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتنیاہو نے رواں برس اگست میں موساد کے سربراہ یوسی کوہین کے ساتھ ماسکو کا دورہ کیا۔ اس کا مقصد داعش کے بارے میں معلومات کے تبادلے کے مقابل مقبوضہ گولان کی دوسری جانب اسرائیلی نقل و حرکت کی زیادہ رسائی کی اجازت حاصل کرنا تھا۔ تاہم ایک اسرائیلی عسکری ذریعے نے مذکورہ جریدے کو بتایا کہ ٹرمپ نے روس کو شام میں موساد کے آپریشن کے بارے میں بتا کر" ہم سے خیانت کی" ، ہم وہ سب کچھ کریں گے جس کو ہم اپنے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔