.

"بن حبتور" کی حکومت کی برطرفی کے لیے حوثیوں کا ہمنوا علماء سے رجوع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارلحکومت صنعاء میں باغی حوثی ملیشیا کی جانب سے شہری اور عسکری فیصلوں کی زمام پر کنٹرول حاصل کرنے اور اپنے حلیف معزول صدر علی صالح کی پوزیشن کمزور بنانے کے بعد دونوں حلیفوں کے درمیان ایک مرتبہ پھر اختلافات سَر اٹھا رہے ہیں۔

اس سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت میں حوثی ملیشیا نے اپنی ہمنوا مذہبی شخصیات کا سہارا لیا ہے۔ اس حوالے سے علمائے یمن کے نام سے ایک وسیع اجلاس منعقد ہوا جس کے اختتام پر جاری بیان میں معزول صالح کی سیاسی جاعت سے تعلق رکھنے والی شخصیت عبدالعزیز بن حبتور کی باغی حکومت کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب معزول صدر علی عبداللہ صالح کے ہمنوا ڈیموکریٹک نیشنل الائنس میں شامل سیاسی جماعتوں نے حوثی ملیشیا پر ایک مرتبہ پھر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے اجرتی قاتلوں، لٹیروں اور عوام کا مال چوری کرنے والوں کا ٹولہ قرار دیا۔ اتحاد کے سرکاری ترجمان عبدالمجید الحنش نے حوثی ملیشیا پر الزام عائد کیا کہ وہ شہریوں میں امتیاز برت رہی ہے اور اس وقت شہریوں کی پہلے، دوسرے اور تیسرے درجے میں تقسیم موجود ہے۔