.

مصر: مسجد میں بم دھماکے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 305 ہو گئی

نامعلوم دہشت گردوں کی عمریں 25 اور 30 برس کے درمیان تھی: پراسیکیوٹر جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری پراسیکیوٹر جنرل نے ایک اعلامیہ میں بتایا ہے کہ گذشتہ روز شمالی سیناء کے علاقے الروضہ کی مسجد میں نماز جمعہ کے وقت دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 305 ہو گئی جبکہ 128 افراد زخمی ہیں۔

اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ خونریز حملہ کرنے والے دہشت گردوں کی تعداد تقریباً 25 سے 30 تھی۔ انھوں نے داعش کے پرچم اٹھا رکھے تھے اور فوج کی ملتی جلتی وردی پہن رکھی تھی۔ بیان کے مطابق حملہ آوروں نے خطبہ جمعہ کے عین وقت مسجد میں اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ پراسیکیوٹر جنرل نے حملہ آوروں کی فی الفور گرفتاری کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں 27 کم عمر بچے بھی شامل تھے۔ اس بزدلانہ کارروائی میں 128 افراد زخمی ہیں جو مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

اس سے قبل مصری ذرائع ابلاغ نے بتایا تھا کہ شمالی سیناء کی مسجد میں دہشت گردوں نے دھماکا خیز مواد نصب کر رکھا تھا جو نماز جمعہ کی ادائی کے وقت پھٹا۔

عینی شاہدین نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے بئر العبد شہر کے مشرقی قصبے الروضہ کی مسجد میں دھماکا کیا جس کے نتیجے میں سیکڑوں نمازی لقمہ اجل بنے۔ حملہ آوروں نے نمازیوں پر فائر بھی کھول دیا جس کے باعث ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد ساڑھے چار سو تک جا پہنچی۔

انھوں نے بتایا کہ دھماکے سے مسجد کو بری طرح نقصان پہنچا اور اس میں موجود سامان ٹوٹ پھوٹ گیا۔ عینی شاہدین نے مزید کہا کہ دہشت گردوں نے اہالیاں علاقہ کی گاڑیوں کو فرار سے پہلے آگ لگا دی اور بعد میں قصبے کی طرف آنے والا راستہ بند کر دیا۔ تاہم سیکیورٹی فورسز نے العریش اور القنطرہ کے درمیان سڑک فوری طور پر بند کر دی اور زخمیوں کو ہسپتالوں تک لے جانے کے لئے ایمبولینس گاڑیاں متاثرہ علاقے کی سمت روانہ کیں۔