.

واشنگٹن میں PLO کا دفتر ایک شرط کے ساتھ کُھلا رہے گا : امریکی ذمے دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ کے ایک ذمّے دار نے جمعے کے روز اپنے بیان میں بتایا ہے کہ واشنگٹن میں تنظیم آزادی فلسطین PLO کا دفتر "اسرائیل کے ساتھ امن کی تلاش" کے واسطے کھلا رہے گا۔

موقف کی یہ تبدیلی اس اعلان کے ایک ہفتے بعد سامنے آئی ہے جس میں امریکی حکام نے کہا تھا کہ متعلقہ امریکی قانون کے تحت وہ فلسطینی سفارتی مشن کی بندش کا ارادہ رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی فلسطینی قیادت کو اس بات کا پابند بناتی ہے کہ وہ اسرائیلی کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے بین الاقوامی عدالت سے رجوع نہیں کریں گے۔

امریکی حکام کے فیصلے نے فلسطینیوں میں عدم اطمینان کی لہر دوڑا دی تھی اور انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر اس فیصلے پر عمل درامد ہوا تو وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ تمام تر رابطے منقطع کر لیں گے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک سینئر اہل کار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر جمعے کے روز بتایا کہ فلسطینیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے سفارتی مشن کی سرگرمیاں امن عمل تک محدود کرلیں یہاں تک کہ قانون سے استثناء میں توسیع کر دی جائے۔ امریکا میں پی ایل او کی سرگرمیوں پر عائد پابندیوں میں استثناء کی مدت گزشتہ ہفتے اختتام پذیر ہو گئی تھی۔ اس کے بعد فلسطینیوں کو مطلع کیا گیا کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان امن عمل کے حوالے سے ان کی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہے۔

مذکورہ اہل کار کے مطابق امریکی قانون کے تحت 90 روز کے بعد صدر کے نزدیک اگر فلسطینی جانب اسرائیل کے ساتھ براہ راست اور با معنی مذاکرات پر کاربند ہیں تو واشنگٹن میں پی ایل او اور اس کے دفتر پر عائد پابندیاں اٹھائی جا سکتی ہیں۔

سال 2015 میں کانگریس میں منظور قانون کی ایک شق امریکی حکومت کو پابندی بناتی ہے کہ اگر فلسطینیوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت میں اسرائیل کے جرائم کے حوالے سے تحقیقات شروع کرنے کے لیے "اثر انداز" ہونے کی کوشش کی تو فلسطینی سفارتی مشن کو واشنگٹن میں کام کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران بین الاقوامی فوجداری عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ یہودی بستیوں کی آباد کاری اور فلسطینیوں پر حملوں میں شریک اسرائیلی ذمے داران کا تعاقب کیا جائے اور ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا جائے۔

امریکی حکام نے اس مطالبے کو 2015 میں جاری قانون کی خلاف ورزی شمار کیا تھا۔