.

پینٹاگون شام میں 2 ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا فیصلہ کرے گا : ذمے داران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت دفاع پینٹاگون آئندہ دنوں میں شام کے میں تقریبا 2000 امریکی فوجیوں کی موجودگی کا اعلان کرے گی۔ اس غالب گمان کا اظہار جمعے کے روز دو امریکی ذمے داروں کی جانب سے کیا گیا۔

اس سے قبل امریکی فوج یہ اعلان کر چکی ہے کہ شام میں اس کے تقریبا 500 فوجی اہل کار موجود ہیں۔ ان میں اکثریت سیریئن ڈیموکریٹک فورس کی سپورٹ کے لیے ہے۔ کرد اور عرب گروپوں پر مشتمل یہ فورس شام کے شمال میں داعش تنظیم کے خلاف لڑ رہی ہیں۔

دونوں ذمے داروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پینٹاگون پیر کے روز اعلان کر سکتا ہے کہ وہ شام میں دو ہزار سے کچھ زیادہ فوجیوں کو تعینات کر رہا ہے۔ البتہ دونوں افراد نے باور کرایا کہ ٹائم ٹیبل میں کسی بھی لمحے تبدیلی کا امکان رہتا ہے جس کے نتیجے میں کسی بھی اعلان میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے سابق صدر باراک اوباما کی انتظامیہ کے دور میں عراق اور شام کے اندر "فورس مینجمنٹ لیول" کا نظام نافذ کیا گیا تھا جس کا مقصد فوج پر نگرانی کو یقینی بنانا تھا۔ مذکورہ نظام کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت عراق میں 5262 اور شام میں 503 امریکی فوجی موجود ہیں۔ تاہم ماضی میں امریکی ذمے داران اپنی گفتگو میں بتا چکے ہیں کہ ہر ملک میں فوجیوں کی اصل تعداد اعلان کردہ تعداد سے زیادہ ہے۔

داعش تنظیم کے خلاف مہم کے آخری مرحلے میں داخل ہونے کے ساتھ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا شام میں کوئی امریکی فورس باقی رہے گی اور اگر یہ امکان درست ہوا تو ان کی تعداد کیا ہو گی۔

ان فوجیوں میں زیادہ تر کا تعلق اسپیشل آپریشنز سے ہے جومقامی فورسز کو تربیت اور مشاورت کے علاوہ داعش تنظیم کے خلاف آرٹلری سپورٹ بھی فراہم کر رہے ہیں۔

رواں برس اگست میں پینٹاگون نے اعلان کیا تھا کہ افغانستان میں 11 ہزار فوجی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ تعداد ماضی میں اعلان کردہ فوجیوں کی تعداد سے کئی ہزار زیادہ ہے۔