.

روسی طیاروں کے شمال مشرقی شام میں داعش کے ٹھکانوں پر حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق روسی فوج کے جنگی طیاروں نے شمال مشرقی شام میں شدت پسند گروپ داعش کے ٹھکانوں پر تازہ حملے کیے ہیں۔

خیال رہے کہ داعش کے خلاف روسی جنگی طیاروں کے حملے اس بیان کے بعد کیے گئے ہیں جس میں ماسکو نے کہا تھا کہ وہ شام میں اپنی موجودگی کو رواں سال کےاختتام تک کم کرنے جا رہا ہے۔ تاہم ذرائع کی طرف سے یہ نہیں بتایا گیا کہ روس، شام میں موجود اپنی دفاعی قوت کو کتنا کم کر رہا ہے؟

قبل ازیں روسی آرمی چیف والیری جیریسماوف نے ایک بیان میں کہا تھا ک بشار الاسد کے دفاع کے لیے ان کی شام میں جاری ان کا مشن قریبا مکمل ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بات سوشی میں روس، ترکی اور ایرانی صدور کی سربراہ ملاقات کے دوران اپنے ایرانی اور ترک ہم منصبوں کے ساتھ ملاقات میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ شام میں روسی فوج کا مشن قریبا مکمل ہو چکا ہے مگر بعض مسائل اور مشکلات اب بھی موجود ہیں۔

روسی حکام کی طرف سے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب دوسری طرف ماسکو شام میں فوجی کارروائی کے بجائے سیاسی عمل کو آگے بڑھانے میں زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

سوشی شہر میں شام کے صدر بشارالاسد نے بھی روسی صدر ولادی میر پوتین سے ملاقات کی تھی۔