.

قطر نے القرضاوی کے "علماء اتحاد" کی شکل میں القاعدہ کی تصویر اپنائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسداد دہشت گردی کا مطالبہ کرنے والے ممالک (سعودی عرب، مصر، امارات اور بحرین) کی طرف سے مسلم علماء کے بین الاقوامی اتحاد یعنی "انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز" کو دہشت گرد مجموعات میں شامل کرنا جزیرہ عرب اور خطے میں قطر کے اسلام پسندی کے منصوبے پر ایک کاری ضرب کی حیثیت رکھتا ہے۔ مذکورہ اتحاد کے سربراہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی ہیں۔

اس دہشت گرد اتحاد کی جڑیں 2003 میں اُس وقت پروان چڑھیں جب قطر میں الاخوان تنظیم نے خود کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس اتحاد کی داغ بیل ڈالی۔ اس کے سربراہ کے طور پر ڈاکٹر القرضاوی کو چنا گیا جب کہ تمام تر فنڈنگ دوحہ کی جانب سے کی گئی۔ اتحاد نے 2004 میں ساری دنیا میں مختلف مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے۔

اس "مصنوعی قلب" کو شہری معاشرے کو سرگرم کرنے اور اس میں توانائی بھر دینے کا ذریعہ قرار دیا گیا تا کہ آگاہی کی سطح کو بلند کیا جا سکے۔ اس کا نتیجہ جزیرہ عرب کے معاشروں میں سیاسی، سماجی، تعلیمی اور اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں پر واضح طور منعکس ہو گا۔

القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن بھی اس مصنوعی نظریاتی قلب کے منصوبے سے دُور نہیں تھے۔ انہوں نے ایبٹ آباد میں رہتے ہوئے اپنے خطوں میں اس پر روشنی ڈالی اور قطر کو اس پر عمل درامد کے لیے نامزد کیا۔

جون 2004 میں تحریر کی گئی ایک دستاویز میں لویس عطیہ اللہ نے عبدالعزیز المقرن کی موت پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "بہت سے سیاسی تجزیہ کاروں نے اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ القاعدہ اب ایک تنظیم سے بدل کر عوامی تحریک کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ لوگ اس کے افکار اور نظریات سے قائل ہو کر انہیں اپنا رہے ہیں۔ القاعدہ کوئی تنہا کر دی جانے والی تنظیم یا جماعت نہیں بلکہ یہ عالمی جہادی لیگ کا کردار ادا کرنے والی تحریک ہے"۔

اسی اخوانی منصوبے کے تحت تیونس میں انقلابی تحریک کا آغاز کیا گیا جس کو "بہارِ عرب" کا نام دیا گیا۔ اس نظریاتی محور نے بنیاد پرست اسلام پسندوں ، بائیں بازو کے لبرلز اور ٹوپی اور عمامے والوں کو نظریاتی اختلاف کے باوجود اکٹھا کر دیا۔ البتہ بن لادن کی جانب سے پس پردہ یہ مطالبہ کیا گیا کہ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ صراحتا یا اشارتا القاعدہ کو سراہنے سے اجتناب کریں۔

بن لادن کا موقف تھا کہ "ایسے وقت میں افغانستان کے محاذ پر منہمک نہیں رہنا چاہیے جہاں پہلے ہی جہادی تحریک وسیع پیمانے پر مصروفِ عمل ہے۔ اسلامی دنیا کے وسط میں جامع عوامی انقلابات دیکھنے میں آ رہے ہیں لہذا ہمیں میڈیا کے ذریعے اس کو زیادہ سے زیادہ پھیلانا چاہیے۔ ہماری کوششیں امت مسلمہ کو متوجہ کرنے میں صرف ہوں۔ یہ انتہائی خطرناک مرحلہ ہے جو ہمارے رجحانات کے درمیان اختلاف کا متحمل نہیں ہو سکتا"۔ بن لادن کے مطابق آئندہ مرحلے کا اہم ترین اقدام عوام کو حکمرانوں کے خلاف نکالنے پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔

بن لادن نے مطالبہ کیا کہ اس مقصد کے لیے نثر نگاری، شاعری، بصری اور سمعی تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا جائے تا کہ امت مسلمہ کے نوجوانوں کو متوجہ کیا جا سکے اور ان کو رہ نمائی دی جا سکے۔

ایسے وقت میں جب کہ القاعدہ اور ہمنوا مسلح بنیاد پرست تنظیموں کے عناصر قطر اور ایران منتقل ہو رہے تھے، القاعدہ کے سربراہ نے انقلابی مجلس بنانے کا مطالبہ کیا۔ اس کا مقصد عبداللہ النفیسی، احمد العلی، عبداللہ المالکی اور حاکم المطیری جیسے رہ نماؤں کی جانب سے ہدایات اور انتظامی امور کو یقینی بنانا ہے۔ بن لادن کی دستاویز کے مطابق انقلابی مجلس کا بنیادی مقصد القاعدہ کا منظر عام پر نمودار نہ ہونا ہے۔

بن لادن کے مطابق انقلابی مجلس کا وجود انقلاب سے قبل لوگوں کی آگاہی کے لیے بہت اہم ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ مجلس بمنزلہ حکومت ہو گی اور ایک اسلامی ریاست کے قیام کا ارادہ رکھے گی۔ بن لادن نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کہا کہ قطر اس ذمّے داری کو انجام دے سکتا ہے۔ وہ اخراجات، تیاری اور مشاورت کا متحمّل ہو سکتا ہے۔ اس نے بالواسطہ طور پر انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز کے قیام کی ذمّے داری بھی اٹھائی تھی۔

اسامہ بن لادن نے محمد الاحمری نامی شخص کو انقلابی کونسل میں شامل ہونے کی ہدایت کی تھی۔ وہ الاخوان کے سرکردہ رہ نما اور تنظیم میں سلفی تحریک "سروریہ" کے بانی محمد سرور کا شاگرد ہے۔ اس نے قطر منتقل ہو کر وہاں کی شہریت حاصل کی اور مستقل سکونت اختیار کر لی۔

اسامہ بن لادن نے قطر میں مطالعاتی مراکز کی معاونت حاصل کرنے کی جانب بھی اشارہ کیا جو ان کے نزدیک القاعدہ کا پرچم تھامنے کی پوری قدرت رکھتے ہیں۔ ان مراکز کی ذمّے داری الاحمری، الشنقیطی اور عزمی بشارہ کے پاس ہے۔ اس کے علاوہ القاعدہ کے سربراہ نے عبدالباری عطوان اور عزام التمیمی کے لیے بھی ہدایت جاری کی۔ بن لادن ان دونوں شخصیات کو شدت پسند اسلامی نظریات اور مغربی میڈیا کے بیچ نقطہ وصل شمار کرتے تھے۔

گیارہ ستمبر کے حملوں کے دس سال مکمل ہونے پر اپنے پیغام میں اسامہ بن لادن کا کہنا تھا کہ "میرے نزدیک ہمیں الجزیرہ چینل کو آگاہ کر دینا چاہیے کہ ہم 11 ستمبر کے واقعات کی برسی پر کوریج کے لیے اس کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں۔ مجوزہ پروگرام احمد زیدان کو تیار کیا جانا چاہیے۔ ہم CBS جیسے کسی پیشہ ورانہ امریکی چینل کی تلاش میں ہیں جس کو مواد اور لوازمات ارسال کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں برادر عزام التمیمی سے مشاورت کی جائے کہ کس چینل کو ٹیپ ارسال کیا جائے۔ علاوہ ازیں عبدالباری عطوان اور رابرٹ فسک کو بھی مواد ارسال کیا جائے"۔

اس طرح بن لادن کی تمام دستاویزات اور خطوط القاعدہ تنظیم کے قطری دہشت گرد منصوبے کے ساتھ تعلق کا انکشاف کرتے ہیں۔ لہذا اس بنیاد پر انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز ، اس کے سربراہ القرضاوی اور ان کے پیروکاروں کے علاوہ تحقیقی مطالعاتی مراکز اور دیگر تنظیموں اور ان کے ارکان کو دہشت گردی کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ اس اقدام نے اسلامی منصوبے کے "مصنوعی قلب" کے گرد زندگی کے تمام تر ذرائع کو تنگ کر دیا۔