.

ایرانی سائبر جاسوس سعد الحریری کے اکاؤنٹس کیوں ہیک کرر ہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے بڑے پیمانے پر خطے میں سائبر حملے شروع کردیے ہیں ۔ان کا مقصد مشرق وسطیٰ اور بالخصوص لبنان میں ایرانی اثر ورسوخ کو بڑھانا اور مفادات کا تحفظ ہے۔

فرانسیسی اخبار لی فیگارومیں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق ایران کے حمایت یافتہ ایرانی ہیکروں کے ایک گروپ نے لبنان کے صدر میشل عون اور وزیراعظم سعد حریری کے دفاتر کے سرورز پر حملے کیے ہیں۔

ہیکروں نے لبنان کی وزارت ِخارجہ اور وزارتِ انصاف ، آرمی اور متعدد بنکوں کی ویب سائٹس اور سرورز کو بھی اپنے حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ’’ درحقیقت گذشتہ چھے ماہ سے ایرانی ہیکر ’’ آئیل رگ‘‘ کے نام سے لبنانی سروروں کو ہیک کررہے ہیں‘‘۔

مغربی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ہیکروں نے سعد حریری اور صدر میشل عون کے ای میل اکاؤنٹس تک بھی رسائی حاصل کر لی تھی۔لبنان میں مئی 2018ء میں عام انتخابات سے قبل ہیکر حزب اللہ کے حق میں انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کررہے ہیں اور وہ اس شیعہ جنگجو گروپ کے مخالفین کے لیے ضرررساں اطلاعات تک رسائی چاہتے ہیں۔

اس آپریشن کے دوران میں سائبر ہیکروں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ عام شہری ہیں اور اس بنا پر ایرانی حکومت بڑی آسانی سے اس سائبر حملے میں اپنے کسی قسم کے کردار کی تردید کرسکتی ہے۔تاہم مغربی انٹیلی جنس سروسز کا کہنا ہے کہ ان ہیکروں کو ایران کی وزارت دفاع اور داخلی سلامتی کی جانب سے ہی رقوم مل رہی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئیل رگ گروپ گذشتہ ڈیڑھ ایک سال سے فعال ہے اور یہ سعودی عرب سمیت خطے میں بہت سے سائبر حملوں میں ملوث ہے۔