.

حوثیوں نے گرفتار شدگان کی رہائی کا بین الاقوامی منصوبہ مسترد کر دیا : بن دغر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی وزیراعظم احمد بن دغر نے انکشاف کیا ہے کہ حوثی اور معزول صالح کی ملیشیاؤں نے بین الاقوامی تنظیم صلیبِ احمر کے سربراہ کے اُس منصوبے کو مسترد کر دیا ہے جس میں دونوں جانب کے تمام گرفتار شدگان کو غیر مشروط طور پر رہا کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ بن دغر کے مطابق یہ "عالمی برادری اور بین الاقوامی تنظیموں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے"۔

یمنی وزریراعظم کا یہ موقف اتوار کے روز عبوری دارالحکومت عدن میں مغوی نوجوانوں کی ماؤں کی انجمن کی سربراہ امت السلام الحاج سے ملاقات کے دوران سامنے آیا۔ اس موقع پر احمد بن دغر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ باغی ملیشیا پر مزید دباؤ ڈالے تا کہ وہ شہریوں کے خلاف اندھادھند گرفتاریوں کا سلسلہ روک دے اور بے قصور افراد کو فوری طور پر رہا کر دے۔

یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق بن دغر نے اُس طریقہ کار کا جائزہ لیا جس کے تحت 2483 مغوی اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو 14.9 کروڑ یمنی ریال کی پہلی قسط ادا کی گئی۔ انہوں نے اسی طریقے پر دوسری قسط کی ادائیگی کی ہدایات جاری کیں۔

یمنی وزیراعظم نے باغی ملیشیا کی جیلوں میں گرفتار شدگان کو درپیش تشدد اور اذیت رسانی کے جرائم کی شدید مذمت کی۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل یمنی حکومت کے زیر انتظام انسانی حقوق کی وزارت کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق حوثی اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کی جیلوں میں موجود گرفتار شدگان کی تعداد 13 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔