.

سعودی خاتون نے مردوں کے تشدد کے خلاف یہ راستہ اپنایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی خاتون شہری " ام مشعل" مملکت میں عائلی تشدد کا شکار اپنی ہم وطن شہریوں کے لیے انتہائی فعّال سپورٹر اور کارکن کے روپ میں سامنے آئی ہے۔ وہ متاثرہ خواتین کی رہ نمائی کے واسطے ان کو متعلقہ تنظیموں اور انجمنوں کی راہ دکھاتی ہے۔

ام مشعل ایک شادی شدہ خاتون تھی جس کی ازدواجی زندگی ابتدائی طور پر پرسکون گزری مگر پھر بہت جلد وہ جہنم میں تبدیل ہو گئی۔ ام مشعل کا شوہر شراب نوشی کا عادی بن جانے کے بعد اپنی بیوی اور بچوں کو روزانہ بدترین مار پیٹ اور تذلیل کا نشانہ بنانے لگا۔ اس کے نتیجے میں ام مشعل کو کئی بار ہسپتال منتقل کیا گیا۔ وہ کئی برسوں تک تنہا یہ وحشیانہ تشدد برداشت کرتی رہی۔ بالآخر اسے شوہر سے طلاق حاصل کرنے کے سوا کوئی دوسرا حل نظر نہیں آیا۔

ام مشعل نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اس نے پورے 20 برس تک دکھوں کو جھیلا۔ اس کا شوہر نشے کی حالت میں رات گئے واپس آتا اور گھر میں داخل ہوتے ہی چیختا چلاتا اور پھر ام مشعل کے بال کھینچتا اور کبھی لاتوں اور گھونسوں سے نوازتا۔ اس واسطے ام مشعل نے اس وحشی درندے سے نجات پانے کے لیے طلاق کا فیصلہ کیا۔

ام مشعل کے مطابق اس نے فیصلہ کیا کہ وہ عائلی تشدد کا نشانہ بننے کے بعد زندگی گزارنے کے لیے خواتین کو نمونہ بن کر دکھائے گی۔ اس نے اپنے گرد خوف کا دائرہ توڑا اور دیگر متاثرہ خواتین کے ساتھ مل کر سعودی خواتین کی نفسیاتی اور قانونی رہ نمائی کے واسطے رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دینا شروع کر دی۔

ام مشعل نے اپنی گفتگو میں عائلی تشدد کا شکار خواتین سے مطالبہ کیا کہ وہ خوف سے باہر آئیں اور اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی تفصیلات بیان کریں تا کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کی مدد کر سکیں۔ ام مشعل کے مطابق معاشرے کی اقدار کے باعث خواتین اپنے گھروں کے راز پوشیدہ رکھنے کی خاطر ظلم و تشدد کی داستان بیان نہیں کرتی ہیں اور چُپ سادھ لیتی ہیں۔

اس حوالے سے جان ہوپکنز ارامکو میڈیکل سینٹر کی ڈاکٹر حنان الشیخ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں بتایا کہ غائب دماغی کے سبب تشدد کا شکار خاتون یہ نہیں جان پاتی کہ اسے کرنا کیا ہے اور اسے جانا کہاں ہے۔ وہ بچوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے اور معاشرے میں مطلقہ عورت پر لگنے والے دھبّے سے خوف زدہ ہوتی ہے۔ بعض مرتبہ عورت کے گھر والے بھی اس کی واپسی پر خیر مقدم کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

ڈاکٹر حنان کے مطابق جو عورت تشدد کو مسترد کر کے ازدواجی تعلق سے باہر آ جاتی ہے وہ مضبوط ارادے کی مالک ہوتی ہے۔ تشدد کا شکار عورت کو انفرادی طور پر یا نفسیاتی ڈاکٹر کی مدد سے اپنی خود اعتمادی کو مضبوط بنانا چاہیے اور ساتھ ہی اس سوچ سے بھی چھٹکارہ پانا چاہیے کہ ہر مرد لازما تشدد پسند ہوتا ہے۔