.

عراق : کردستان کی تنخواہوں کے مقابل ریفرینڈم کی منسوخی کی شرط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں وفاقی حکومت نے کردستان ریجن کی تنخواہوں کے ارسال کے لیے شرط عائد کی ہے کہ اربیل حکومت ستمبر میں ہونے والے ریفرینڈم کے نتائج منسوخ کرے اور سرحدی گزر گاہوں کو بغداد حکومت کے حوالے کرے۔

عراقی حکومت کے ترجمان سعد الحدیثی نے اتوار کے روز بتایا کہ اربیل حکومت نے ریفرینڈم کی منسوخی اور وفاقی سپریم کورٹ کے فیصلے (جس میں ملک کے کسی بھی حصے کی علاحدگی اور اس سے متعلق ریفرینڈم کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا) کی پاسداری کے حوالے سے ابھی تک سرکاری طور پر بغداد حکومت کو جواب نہیں دیا۔ علاوہ ازیں اربیل حکومت ابھی تک سرحدی گزرگاہوں کو وفاقی حکام کے حوالے کرنے پر بھی آمادہ نہیں ہوئی ہے۔ الحدیثی کے مطابق عراقی حکومت ریفرینڈم اور گزرگاہوں کے حوالے سے اختلاف کے خاتمے کے لیے کردستان حکومت کے وفد کے پہنچنے کی منتظر ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ کردستانی وفد کی آمد سے تنخواہوں کے ارسال کا مسئلہ بھی فیصلہ کن انجام تک پہنچ جائے گا۔

یاد رہے کہ عراقی بجٹ میں کردستان کے حصّے میں کمی نے بغداد اور اربیل کے درمیان ایک نیا بحران پیدا کر دیا ہے۔

کسی قانون کے تحت ریفرینڈم کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا : مسعود بارزانی

دوسری جانب کردستان کے سابق صدر مسعود بارزانی نے علاحدگی سے متعلق ریفرینڈم کو درست فیصلہ اور عراقی کردستان کے عوام کے حق میں مفید قرار دیا ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ کوئی قانون یا حکومت اس ریفرینڈم کو منسوخ نہیں کر سکتی۔

اتوار کے روز اپنی جماعت کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت کے ساتھ ایک اجلاس کے دوران بارزانی کا کہنا تھا کہ "کردستان اور کرکرک میں جو عسکری نقل و حرکت نظر آئی اس کا ریفرینڈم سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ یقینا بغداد حکومت کی جانب سے پہلے سے تیار کردہ منصوبہ تھا"۔ بارزانی کے مطابق بعض فریقوں نے ریفرینڈم کے بعد غدّاری کا مظاہر کیا۔