.

قطر کو فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی کا تحفہ دینے والوں کا انجام

قطر فٹ بال کپ کے نصف حامی کرپٹ، گرفتار یا فوت ہوچکے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی اخبار ’گارجین‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ عالمی فٹ بال فیڈریشن ’فیفا‘ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے جن ارکان میں 2022ء کے فٹ بال ورلد کپ کی میزبانی قطر کو دینے کی حمایت کی تھی ان میں سے نصف کرپٹ، گرفتار یا وفات پا چکے ہیں۔ مبینہ بدعنوانی کے الزامات کے بعد بہت سے ارکان کو کام سے روک دیا گیا ہے۔

اخبار کے اسپورٹس نامہ نگار بارنی رونائی نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ’فیفا‘ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے 25 ارکان نے سنہ 2022ء کے فٹ بال کپ کی میزبانی قطر کو دینے کی حمایت کی تھی۔ ان میں سے 13 پر بدعنوانی کے خلاف الزامات عاید کیے گئے اور ان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ بعض کو گرفتار کیا گیا اور کچھ وفات پا چکے ہیں۔

فیفا میں قطر کی حمایت کرنے والے ارکان جن کے خلاف کرپشن کے الزامات عاید کیے گئے ان میں فیڈریشن کے سابق چیف سیپ بلاٹر، تھائی لینڈ کے وارورائی ماکوڈی، فرانس کے میچل پلاٹینی، جرمنی کے فرانز بیکنپاور، ٹرینڈاڈی جاک اورنر، کوریا کے شونگ مونگ جون، پارا گویانی نیکولاس لیوز جس کا حال ہی میں امریکا میں ٹرائل شروع کیا گیا، ہسپانوی فٹ بال فیڈریشن کے سابق چیرمین انخیلا فیلاور جو اس وقت گرفتار ہیں، برازیلی ریکارڈو ٹیکزسیرا، قطر کے محمد بن ھمام، ارجنٹائن کے آنجہانی خولیا گروندونا، اس کا امریکی ساتھی چاک پلیزر جو سرطان کے مرض میں وفات پا چکا ہے فٹ بال کے قطر کی میزبانی کے حامی تھے۔

صحافی رونائی کا کہنا ہے کہ امریکا سنہ 2022ء کے فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی قطر کو دیے جانے اور اس فیصلے میں کرپٹ عناصر کے کردار کےحوالے سے معلومات کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ مبینہ کرپشن کے الزامات کے باعث کئی اہم عہدیدار فیفا گروپ کی ملازمت سے برطرف کیے گئے ہیں۔

فیڈریشنن کے مارکیٹنگ کے عہدیدار الیخانڈرو برویزاکو نے آنجہانی گرنڈونا، ریکارڈوو ٹیکسیزا اور نیکولاس لیوز نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے گواہی دی تھی کہ فٹ بال کپ کی قطری میزبانی کے لیے اپنے ووٹ فی کس ایک ملین ڈالر میں فروخت کیے تھے۔