.

ہتھیاروں کا معاملہ سرخ لکیر ہے ، اس پر بحث مسترد کرتے ہیں : حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی تنظیم حماس نے پیر کے روز فلسطینی حکومت کو نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اکتوبر میں قاہرہ میں طے پانے والے مصالحتی معاہدے کی بعض شقوں پر عمل درامد میں پس و پیش کر رہی ہے۔ حماس نے کئی نکات پر زور دیتے ہوئے انہیں سرخ لکیر قرار دیا جس سے دست برداری یا اس پر بحث کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان نکات میں "مزاحمتی تحریک" کے ہتھیار اور غزہ پٹی میں ملازمین کا معاملہ شامل ہیں۔

حماس کے سیاسی دفتر کے نائب سربراہ خلیل الحیہ نے غزہ میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ فلسطینی حکومت کو چاہیے کہ قانون ساز کونسل اور قانون ساز اتھارٹی کے ذریعے احتساب اور نگرانی کا عمل انجام دے۔

حماس تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے بہت سی رعائتیں پیش کی ہیں تاہم وہ ان کو رعائت نہیں بلکہ فلسطینی عوام اور ان کے مفاد کی خاطر لچک شمار کرتی ہے۔ خلیل الحیہ کے مطابق گزشتہ دو روز سے میڈیا رپورٹیں ظاہر کر رہی ہیں کہ بعض فریق مصالحت کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مصر کی کوششوں کو گراں قدر قرار دیتے ہوئے اس کے قائدانہ کردار کا خیر مقدم کیا۔

خلیل الحیہ نے پریس کانفرنس کے اختتام پر فتح تحریک سے مطالبہ کیا کہ وہ سیاسی دباؤ اور مالی پیش کشوں کو خاطر میں لائے بغیر قاہرہ میں دستخط کیے جانے والے معاہدے اور مصالحت پر سختی سے کاربند رہے۔ فتح تحریک مصالحتی معاہدے کے تحفظ اور سیاسی طور اس کے اقدامات کی سپورٹ کے لیے کام کرے۔ کسی جانب کو بھی اجازت نہ دی جائے کہ وہ رکاوٹیں کھڑی کر کے مصالحتی عمل کو معطل کر دے۔ مصالحتی معاہدے کے واسطے مقامی ، علاقائی اور عالمی سطح پر سیاسی سپورٹ فراہم کی جائے۔