.

سعودی عرب میں 12 ہزار سال پرانا اونٹ ملاحظہ فرمائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں چٹانوں پر مصوری اور نقاشی کے ذریعے بنائی گئی اونٹوں کی تصاویر 12 ہزار سال پرانی تاریخ کا پتہ دیتی ہیں۔ جی ہاں اُس جانور کی تصاویر جو جزیرہ نما عرب اور دنیا کی قدیم تاریخ میں نقل و حرکت کا مشہور اور اہم ترین ذریعہ شمار کیا جاتا ہے۔

پرانے زمانے میں اونٹ صحراء میں زمینی راستے نقل و حرکت کا ذریعہ تھا جس نے عربوں کو ان کی تجارت میں بڑی مدد پہنچائی۔ بالکل اسی طرح جیسے چین کے لوگ اپنی تجارت میں کشتیوں کے استعمال کے حوالے سے مشہور ہوئے۔

مشہور سیاح محمد الشاوی نے اپنے ٹوئیٹر اور انسٹاگرام اکاؤنٹس پر دو تصاویر نشر کی ہیں۔ الشاوی کی جانب سے لی گئی ان تصاویر میں چٹانوں پر بنایا گیا اونٹ اپنے قدرتی حجم میں نظر آ رہا ہے۔ ان میں ایک چٹان سعودی عرب کے علاقے نجران میں اور دوسری مملکت کے شمال مغربی علاقے میں ہے۔ دونوں مقامات کے درمیان 1400 کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔

الشاوی کے مطابق انہوں نے سعودی عرب کے مختلف مقامات پر چٹانوں پر مصوری کے قالب میں ڈھالے گئے اونٹوں کی سیکڑوں تصاویر لیں۔ مصوّری کا یہ رجحان عربوں کی اس جانور پر توجہ کا پتہ دیتا ہے جو ان کی زندگی اور تجارت کا ایک حصّہ ہوا کرتا تھا۔

اس سلسلے میں کنگ سعود یونیورسٹی میں آثاریات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر احمد العبودی نے واضح کیا کہ سعودی عرب میں چٹانوں پر بنائی گئی تصاویر کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ان میں بعض کا ابھی تک انکشاف نہیں ہو سکا۔ العبودی کے مطابق سعودی عرب میں چٹانوں پر کی گئی اس مصوّری کی عمر 3 ہزار سے 12 ہزار سال کے درمیان ہے۔