.

الرقہ سے 400 امریکی فوجی وطن واپس واپسی کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی قیادت میں قائم داعش کے خلاف عالمی عسکری اتحاد نے کہا ہے کہ شام کے الرقہ شہر سے 400 امریکی نیول انفنٹری کے 400 اہلکار مشن مکمل کرنے کے بعد جلد وطن لوٹ رہے ہیں۔ یہ فوجی الرقہ میں داعش کے خلاف سیرین ڈیموکریٹک فورسز کی مدد کے لیے تعینات کیے گئے تھے۔ شمالی شام کے شہر الرقہ سے داعش کو گذشتہ ماہ کچل دیا گیا تھا۔

عالمی عسکری اتحاد کے ترجمان کرنل ریان ڈیلن نے ٹویٹر پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں بتایا کہ الرقہ میں تعینات کیے گئے چار سو اہلکاروں کو واپس بلایا جا رہا ہے۔ یہ اہلکار داعش کی خود ساختہ مملکت کے دارالحکومت الرقہ میں تنظیم کے خلاف جاری آپریشن میں توپ خانے کے معاون کے طور پر کام کر رہے تھے۔

خیال رہے کہ امریکی فوجی 15 ستمبر کو الرقہ پہنچے تھے۔ انہوں نے پہلے سے الرقہ میں جاری آپریشن میں شریک فوجیوں کی جگہ لی تھی، جس کے بعد سے داعش کو شہر سے نکال باہر کرنے کے لیے آپریشن مزید تیز کردیا گیا تھا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں کو واپس بلایا جا رہا ہے۔ ان کی جگہ نئے فوجی تعینات نہیں کیے جائیں گے۔

30 ستمبر کو امریکی وزارت دفاع کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ شام میں داعش کے خلاف آپریشن میں 1720 امریکی فوجی حصہ لے رہے ہیں۔

الرقہ میں داعش کے خلاف آپریشن چار ماہ سے زاید عرصے تک جاری رہا۔ اس آپریشن میں کرد اور عرب جنگجوؤں پر مشتمل سیرین ڈیموکریٹک فورس نے کلیدی کردار ادا کیا۔ 17 اکتوبر کے بعد اس کارروائی میں عالمی عسکری اتحاد نے بھی حصہ لیا تھا۔

شام کے الرقہ شہر میں داعش کے خلاف آپریشن میں کرد فورسز کے حصہ لینے پر ترکی کو شدید تشویش رہی ہے تاہم حال ہی میں ترکی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ امریکا نے اسے یقین دلایا ہے کہ وہ کرد پیپلز پروٹکشن یونٹس کو اسلحہ فراہم نہیں کرے گا۔ ترکی کرد فورسز کو دہشت گر قرار دیتا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ کرد خطے میں اپنی الگ مملکت کے قیام کے لیے لڑ رہے ہیں۔