.

سعودی عرب : "بدعنوانی کے ملزمان" کے ساتھ یہ معاملہ ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں حکام نے بدعنوانی کے ملزمان کے ساتھ مالی تصفیے کے اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں گزشتہ چند روز کے دوران ان میں سے کئی ملزمان کی رہائی عمل میں آ چکی ہے۔ یہ افراد غیر قانونی طور پر حاصل کی جانے والی رقم قومی خزانے کو واپس لوٹانے کے مقابل رہا ہوئے ہیں۔

مملکت میں انسداد بدعنوانی کی سپریم کمیٹی کی جانب سے یہ اقدام شاہی دفتر سے منظوری کے حصول کے بعد کیا گیا۔

مالی تصفیے کی کارروائی میں اربوں ریال کی نقدی اور اثاثوں کو واپس کیا گیا۔ یہ عمل مملکت اور مملکت سے باہر بینک کھاتوں اور سیال رقوم اور جمع شدہ اثاثوں کی صورت میں پورا ہوا۔ واضح رہے کہ اگر ان افراد کے خلاف قانونی کارروائی اور کے رسمی تقاضوں کے پورا ہونے کا انتظار کیا جاتا تو اس عمل میں ایک طویل عرصہ لگ جاتا۔

یاد رہے کہ دنیا میں کئی ممالکت ایسے معاملات میں تصفیے کا طریقہ اپناتے ہیں۔

سال 2010 سے 2016 تک دنیا بھر کے بینکوں اور عالمی مالیاتی اداروں نے بدعنوانی اور مالی خرد برد کے ضمن میں پابندیوں ، جرمانوں اور امریکی عدلیہ کے تصفیوں سلسلے میں 320 ارب ڈالر کی ادائیگی کی۔

اسی طرح عرب ممالک میں مصر نے مالی بدعنوانی اور عوامی مال لُوٹنے کے مقدمات میں معافی کے مقابل سرکاری ملازمین کے لیے اقتصادی اور مالی مصالحت کا قانون پیش کیا۔ اس طرح مطلوبہ رقوم واپس کر دینے کی صورت میں ان مقدمات میں ملوث افراد احتساب کے عمل سے بچ گئے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب میں نومبر کی ابتدا میں شاہی فرمان کے ذریعے تشکیل دی جانے والی انسداد بدعوانی کی سپریم کمیٹی نے چار نومبر کو بدعنوانی کے معاملات میں ملوث متعدد شہزادوں ، سابقہ اور موجودہ وزاراء اور بعض کاروباری شخصیات کو حراست میں لے لیا تھا۔ اس کمیٹی کے سربراہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہیں۔