.

’حزب اللہ کو خلیج میں مداخلت کی بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے‘

محمد بن سلمان بن عبدالعزیز اعتدال پشند انقلابی لیڈر ہیں: سعد الحریری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی وزیر اعظم سعد حریری نے کہا ہے کہ ان کے استعفے کا مقصد لبنان میں مثبت رد عمل پیدا کرنا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے ملک وقوم کے وسیع تر مفاد اور لبنان کے استحکام کی خاطر مذاکرات کا راستہ اپنایا۔

فرانسیسی جریدے ’پیریس میچ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں لبنانی وزیراعظم نے کہا کہ فرقہ واریت نے پورے خطے کو تباہ کر دیا ہے۔ حالیہ عرصے کے دوران غیر معمولی شدت کی کشیدگی اور محاذ آرائی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ایسے میں لبنان حزب اللہ کی خلیجی ممالک میں مداخلت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لبنانی قوم نے سیاسی محاذ آرائی کے بجائے ڈائیلاگ اور مذاکرات کی راہ اپنائی۔ ایسا کرنا لبنان کے استحکام کے لیے ضروری تھا۔ کیونکہ کوئی نہیں چاہتا کہ لبنان خانہ جنگی کا شکار ہو۔ اس لیے ہمیں لبنان میں ایسی جامع سیاسی حکمت عملی اپنا ہے جو لبنان کے مفادات کی آئینہ دار ہو۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کوسعودی عرب میں قید کیا گیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا ہر گز نہیں۔ میں نے ریاض سے استعفیٰ اس لیے دیا تاکہ لبنان میں مثبت سیاسی ردعمل پیدا۔ اس موضوع پر جتنی بھی کہانیاں مشہور ہوئیں وہ سب جھوٹ پر مبنی تھیں۔ میں اپنی مرضی سے سعودی عرب گیا، وہاں سے مصر اور قبرص سے ہو کر وطن واپس لوٹا ہوں۔

محمد سلمان متعدل شخصیت

ایک سوال کے جوبا میں سعد حریری نے کہا کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز ایک معتدل شخصیت ہیں۔ وہ اپنے ملک کے بارے میں کھلے پن کی سیاست چاہتے ہیں۔

شہزادہ محمد بن سلمان کی کرپشن کے خلاف جنگ کے بارے میں سوال کے جواب میں سعد حریری نے کہا کہ ’شہزادہ محمد سلمان نے خود اپنی اس پالیسی کی وضاحت کی اور بتایا کہ انہوں نے کس طرح اقتصادی فواید حاصل کیے۔ وہ اعتدال اور توازن پر مبنی پالیسی چاہتے ہیں۔ خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دی گئی، ماضی میں سعودی عرب میں سینما نہیں تھے اور نہ ہی محافل موسیقی کی اجازت تھی۔ اب ہم سعودی معاشرے کو گھٹن سے نکالنا چاہتے ہیں۔

لبنانی وزیراعظم نے کہا کہ ایران کی مداخلت ایک حقیقی مسئلہ ہے اور سعودی عرب ایرانی مداخلت سے متاثر ہے۔ صرف سعودی عرب نہیں بلکہ عراق، یمن اور بحرین میں ایرانی مداخلت سے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ ہم لبنانی ہونے کے ناطے سعودی عرب کے ساتھ گہرے اقتصادی مفادات رکھتے ہیں۔

حزب اللہ کی مداخلت کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی

ایک دوسرے سوال کے جواب میں سعد حریری نے کہا کہ حزب اللہ کے دو چہرے ہیں۔ لبنان کی سیاست میں حزب اللہ کا کلیدی کردار ہے۔ اس کا اسلحہ بھی محل نظر ہے مگر حزب اللہ نے کبھی لبنانی عوام کے خلاف اسلحہ استعمال نہیں کیا۔

لبنان کا مفاد اس میں ہے کہ حزب اللہ خطے میں کسی کے خلاف استعمال نہ کرے۔ خطے میں پہلے ہی بہت زیادہ خون بہہ چکا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ حزب اللہ کی مداخلت لبنان کے لیے بھاری ثابت ہوسکتی ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ لبنان کی کوئی سیاسی جماعت ایرانی مفادات کے لیے ملک کو نقصان پہنچائے۔

ریاض میں وزارت عظمیٰ کے عہدے سے دیے گئے استعفے کے بارے میں سعد حریری کا کہنا تھا کہ انہیں اب بھی سنگین نتائج کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ ان کے دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ لے۔ لبنان کے اسد رجیم نے ان کی پھانسی کا حکم جاری کر رکھا ہے۔