.

تصاویر کے آئینے میں: علی عبداللہ صالح کی داستانِ زندگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

علی عبداللہ صالح ... جی ہاں آج 4 دسمبر 2017 بروز پیر یمن کے 75 سالہ سابق صدر کی زندگی کا باب اختتام پذیر ہو گیا۔

علی عبداللہ صالح 1942 میں یمن کے دارالحکومت صنعاء کے اطراف میں واقع ایک گاؤں البیت الاحمر میں پیدا ہوئے۔
سال 1978 میں انہوں نے یمنی فوج میں ترقی پائی۔ اسی برس یمنی صدر احمد الغشمی کو ہلاک کر دیا گیا۔ ان کے بعد عبدالکریم العرشی نے عارضی طور پر صدارت کا منصب سنبھالا اور پھر سبک دوش ہو گئے۔ ان کے بعد صالح نے ملک کی حکم رانی سنبھالی اور وہ جمہوریہ عربیہ یمن کے چھٹے صدر بن گئے۔

سال 1990 میں ملک کے دونوں حصوں کے ایک ہونے کے اعلان تک وہ صدر رہے اور پھر شمالی اور جنوبی یمن کے اتحاد کے بعد جمہوریہ یمن کے پہلے صدر بن گئے۔

سال 1994 کے موسم گرما کے دوران صالح نے ملک کے جنوب میں علاحدگی پسند رہ نماؤں کے خلاف جنگ لڑی اور ملک پر اپنی گرفت کو مضبوط بنا لیا۔ سال 2004 سے 2010 تک صالح نے یمنی ریاست کے خلاف بغاوت کا اعلان کرنے والی مسلح حوثی تحریک کے خلاف 6 جنگیں لڑیں۔

سال 2011 میں عرب دنیا میں اٹھنے والی انقلابی تحریک نے یمن میں بھی اپنا کام دکھایا اور اس کے نتیجے میں یمنی عسکری ادارہ تقسیم ہو گیا۔ اس موقع پر پڑوسی ممالک نے خلیجی منصوبہ پیش کیا جس میں کرسی صدارت سے صالح کی سبک دوشی کے مقابل اُن کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس پارٹی کے عبوری حکومت میں شریک رہنے کی ضمانت دی گئی تھی۔ اس کے ساتھ صالح کو قانونی تعاقب سے مامونیت بھی دی گئی۔

اگرچہ صالح صدارت سے علاحدہ ہو چکے تھے تاہم 2014 میں انہوں فوج اور ریاست کے شہری اداروں میں اپنے ہمنوا عناصر کے ساتھ مل کر حوثیوں کے ساتھ اتحاد کیا اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کی آئینی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔

صالح اور حوثیوں کے درمیان اتحاد 3 برس سے زیادہ جاری رہا جس کے بعد بغاوت کے دونوں شراکت داروں کے درمیان اختلافات بھڑکنے لگے۔ آخرکار صالح نے حوثیوں سے اپنا راستہ الگ کرنے کا اعلان کر دیا اور ایران نواز باغیوں پر روک لگانے کے لیے اپنے حامیوں کے ساتھ متحرک ہو گئے۔ تاہم آج 4 دسمبر 2017 کو سر میں گولی لگنے سے علی عبداللہ صالح کی زندگی کا چراغ گُل ہو گیا جو تین دہائیوں تک یمن کی کرسی صدارت پر براجمان رہے۔