.

قِبطیوں کے قاتل کی سزائے موت سے متعلق فتوی ، ازہر کا واعظ عدالت میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں ایڈمنسٹریٹو پراسیکیوشن اتھارٹی کی سربراہ فریال قطب نے الجیزہ صوبے میں جامعہ ازہر کے زیر انتظام اسلامک ریسرچ کمپلیکس کے ایک واعظ کے خلاف فوری طور پر عدالتی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ مذکورہ واعظ کی جانب سے ایک سیٹلائٹ چینل پر حدیث نبوی کی غلط تشریح کرنے کے سبب کیا گیا ہے۔

ایڈمنسٹریٹو پراسیکیوشن کے ترجمان محمد سمیر نے ایک اخباری بیان میں باور کرایا ہے کہ سوشل میڈیا اور بعض سیٹلائٹ چینلوں پر زیر گردش وڈیو کلپ میں ملزم مصر کے شہر "6 اکتوبر" کی ایک مسجد میں درس دیتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اس دوران اسکندریہ شہر میں ایک دہشت گرد کے ہاتھوں قبطی پادری کے قتل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مذکورہ واعظ نے ایک حدیث کی غلط تشریح کی اور کہا کہ اگر کوئی مسلمان کسی مسیحی کو قتل کر دے تو اسے موت کے سوا کوئی بھی دوسری سزا دی جا سکتی ہے کیوں کہ غیر مسلم خون بہا میں مسلمانوں کے برابر نہیں۔

دوران تحقیقات اس واعظ نے اپنے اس بیان کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ وہ صرف ایک فقہی مسئلہ واضح کر رہا تھا اور اس نے کوئی فتوی جاری نہیں کیا۔

ایڈمنسٹریٹو پراسیکیوشن کے ترجمان کے مطابق سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر استغاثہ نے ملزم کو امتیازی سلوک اور نفرت پر اکسانے سے متعلق جرائم کے ارتکاب کے سبب اسے فوری طور پر قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔