.

یمن میں عوامی انتفاضہ پر ایرانی میڈیا کو سانپ سونگھ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی ذرائع ابلاغ یمن کی صورت حال کو اپنے مخصوص پیرائے میں بھرپور کوریج دیتا رہا ہے۔ ایران نواز حوثیوں کی باغیانہ روش کو ہوا دینے کے لیے ایرانی ذرائع ابلاغ پیش پیش رہے ہیں مگر حالیہ دنوں میں دارالحکومت صنعاء میں پیش آنے والے واقعات بالخصوص حوثیوں اور علی صالح ملیشیا کے درمیان لڑائی پر ایرانی ذرائع ابلاغ پر گہری خاموشی طاری ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمن میں حوثی باغیوں کی کارروائیوں کو سند جواز مہیا کرنے کے لیے ہر پل واویلا کرنے والے ایرانی میڈیا کو جنگ کی تباہ کاریوں، محاصرے کے نتیجے میں یمنی شہریوں پر بھوک اور موت مسلط کرنے سے کوئی سروکار نہیں رہا ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ حوثی باغیوں کی طرف سے سعودی عرب پر بیلسٹک میزائل حملوں کو بھی دفاع قرار دیا جا رہا ہے۔

ایسے میں دارالحکومت صنعاء میں جاری تازہ کشمکش پر ایرانی میڈیا مکمل طور پر چپ سادھے ہوئے ہے۔ جب سے صنعاء کے عوام نے حوثی باغیوں کے ظالمانہ احکامات تسلیم کرنے سے انکار کیا اور باغیوں کو ایک نئی مشکل سے دوچار کیا ہے۔ یمن کے عوام نے سنہ 2014ء سے قابض ایرانی ملیشیا کے صفائی کی مہم شروع ہوگئی مگر ایرانی میڈیا اس پر خاموش تماشائی ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر کی مقرب نیوز ایجنسیوں "فارس" نیوز اور "تسنیم" نے شام کی تازہ صورت کو کوئی اہمیت نہیں دی جب کہ عالمی اور علاقائی ذرائع ابلاغ میں یمن کا موضوع سرفہرست ہے۔

اس ضمن میں ایک ’یتیمانہ‘ سا بیان ایرانی پارلیمنٹ کی عالمی امور کمیٹی کے چیئرمین امیر عبداللھیان کا سامنا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ایران یمن کے حوثیوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ انصار اللہ اور ان کے مدد گار مزاحمت کا موثر جزو اور سیاسی حل کا حصہ ہیں‘۔

خیال رہے کہ گذشتہ چند روز سے یمن میں حکومت کا تختہ الٹنے میں ایک دوسرے کے معاون رہنے والے حوثی باغیوں اور علی صالح ملیشیا کے درمیان شدید محاذ آرائی شروع ہوگئی تھی۔ اس لڑائی میں دونوں طرف سے غیرمعمولی جانی نقصان پہنچ چکا ہے۔