.

امریکا کی اپنے شہریوں کو القدس کے سفرسے محتاط رہنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکام نے اسرائیل میں موجود اپنے سفارتی عملے اور دیگر شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پرانے بیت المقدس اور دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقوں کے سفر سے اجتناب کریں کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے القددس کو اسرائیل کے دارالحکومت قرار دیے جانے کے متوقع اعلان کی خبروں کے بعد فلسطین میں کافی کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں امریکیوں کی جانوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اسرائیل میں موجود اپنے ملازمین اور دیگر شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ مشرقی یروشلم اور غرب اردن کے سفر سے گریز کریں۔

خیال رہے کہ فلسطینی تنظیموں نے آج چھ دسمبر کو ملک بھر دفاع القدس ریلیوں کی اپیل کی ہے۔ اس موقع پر فلسطین کے بیشتر علاقوں میں جلسے جلوس اور ریلیاں منعقد کی جائیں گی۔

فلسطین میں احتجاجی مظاہرے ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دوسری طرف یہ خبریں بھی آرہی ہیں کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں اور اس فیصلے کا آج بدھ کو اعلان کرنے والے ہیں۔

اسی تناظرمیں امریکی وزارت خارجہ نے اپنے شہریوں کو تا اطلاع ثانی پرانے بیت المقدس، غرب اردن اور فلسطین کے دوسرے حساس علاقوں میں جانے سے گریز کی تاکید کی ہے۔

فلسطینی تنظیموں نے بدھ، جمعرات اور جمعہ کو امریکی اقدامات اور القدس کے بارے میں ممکنہ فیصلے کے خلاف ’یوم الغضب‘ منانے کا اعلان کیا ہے۔ فلسطینی شہری ملک میں قائم سفارت خانوں اور قونصل خانوں کی طرف بھی مارچ کریں گے۔

درایں اثناء فلسطینی اتھارٹی کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے کہا ہے کہ فلسطینی قوم نے متفقہ طور القدس کو اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت قراردینے کے ممکنہ فیصلے کو مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متوقع امریکی اقدام کے تناظر میں جلد از جلد عرب لیگ کا سربراہ اجلاس منعقد کرنے پرغور کیا جا رہا ہے۔