.

فلسطین میں عوامی سطح پر"غم وغصہ" مگر کس لیے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وہائٹ ہاؤس کے عہدیداران کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کی شام بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کا ارادہ رکھتے ہیں۔

دوسری جانب فلسطینی گروپوں نے بدھ ، جمعرات اور جمعہ یعنی تین روز تک عوامی سطح پر "یوم غم وغصہ" منانے کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران شہروں کے مرکزی علاقوں میں اور مختلف ملکوں کے قونصل خانوں اور سفارت خانوں کے سامنے مظاہروں اور دھرنوں میں اس فیصلے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا جو فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان امن عمل کو سبوتاژ کرنے والا ہے۔

اس سلسلے میں فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے منگل کے روز باور کرایا کہ فلسطینی اتھارٹی کا یہ موقف راسخ ہے کہ بین الاقوامی قراردادوں اور عرب امن منصوبے کے مطابق مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بنائے بغیر کسی فسلطینی ریاست کا تصوّر نہیں۔ ابو ردینہ کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس عالمی سربراہان کے ساتھ اپنے رابطے جاری رکھیں گے تا کہ اس مسترد شدہ اور ناقابل قبول اقدام پر عمل درامد نہ ہو سکے۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں مشرقی بیت المقدس پر قبضہ کر بعد ازاں اسے اپنی ریاست میں شامل کر لیا تھا تاہم عالمی برادری نے اس اقدام کو تسلیم نہیں کیا۔ اس وقت بیت المقدس میں کسی بھی ملک کا سفارت خانہ نہیں ہے۔

امریکا نے اسرائیل کی جانب سے پورے بیت المقدس شہر پر اس کے حق کا دعوی قبول کر لیا تو اس سے امریکا کی کئی دہائیوں سے جاری پالیسی بھی اختتام پذیر ہو جائے گی جس میں ہمیشہ یہ کہا جاتا رہا ہے کہ بیت المقدس کی پوزیشن کا تعیّن فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہیے۔ تاہم ایسا نظر آتا ہے کہ ٹرمپ جنہوں نے گذشتہ برس اپنی انتخابی مہم کے دوران امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا وعدہ کیا تھا اب اسرائیل کے حامی دائیں بازو کے کیمپ کو راضی کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ اس کیمپ نے ٹرمپ کو صدارتی انتخابات جیتنے میں مدد دی تھی۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ اس سے پہلے یہ باور کرا چکے ہیں کہ وہ اُس امر کی حمایت کرتے ہیں جس پر تنازع کے دونوں فریق متفق ہوں گے تاہم اُن کا یہ فیصلہ امن کی اُن کوششوں کو پٹری سے اتار سکتا ہے جو ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کُشنر کی طرف سے کی جا رہی ہیں۔

امریکا کے اس قدام کا سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کو پہنچے گا۔ اسرائیلی وزیر انٹیلیجنس نے گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں امریکی ذمے داران سے ملاقات کے دوران ٹرمپ کے جلد ممکنہ اعلان کو سراہا تھا۔ اسرائیلی وزیر کا کہنا تھا کہ "ہم ہر طرح کی صورت حال (پرتشدّد واقعات کی لہر) کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اگر محمود عباس اُمور کو اس جانب لے کر گئے تو وہ ایک بڑی غلطی کریں گے"۔

ادھر بعض امریکی ذمے داران نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر منگل کی شام یہ بتایا کہ امریکی نائب صدر مائیک پنس اور اسرائیل میں امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین نے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانے کو وہاں منتقل کرنے کے لیے بھرپور دباؤ ڈالا ہے جب کہ وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن اور وزیر دفاع جیمس میٹس نے سفارت خانے کی منتقلی کی مخالفت کی ہے۔

تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اپنے معاونین کو آگاہ کر دیا کہ وہ اپنے انتخابی وعدے پر عمل درامد کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس سے متعلق اعلان کی خبر نے واقعتا پرتشدد احتجاجات کا اندیشہ پیدا کر دیا ہے۔

اس حوالے سے امریکی وزارت خارجہ نے بیت المقدس میں اور اس کے اطراف اپنے سفارت کاروں کی نقل وحرکت پر پابندی عائد کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے مختلف حصووں میں امریکی سفارتی مشنوں کو بھی شورشوں کے امکان سے خبردار کیا گیا ہے۔