.

فلسطینی عوام کے لیے سعودی موقف واضح اور ساتھ دینے والا ہے : فلسطین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی ایوانِ صدارت کا کہنا ہے کہ فلسطینی عوام اور ان کے حقوق کے حوالے سے مملکتِ سعودی عرب کا موقف واضح اور ساتھ دینے والا ہے۔ ایوانِ صدارت اس وقت امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کے سرکاری فیصلے کے اعلان کا منتظر ہے۔

منگل کے روز جاری بیان میں فلسطینی ایوان صدارت نے بتایا کہ اس حوالے سے ٹرمپ کا موقف عرب دنیا اور عالمی برادری کی جانب سے مسترد شدہ ہے۔ بیان کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس فلسطینی قیادت کو ایک اجلاس کی دعوت دیں گے تا کہ ٹرمپ کے فیصلے کو زیرِ بحث لایا جا سکے۔

فلسطینی ایوانِ صدارت کا کہنا ہے کہ بیت المقدس سے متعلق فلسطینیوں کے جذبات پر کنٹرول حاصل کرنا ممکن نہیں ہے اور اس سلسلے میں امریکی انتظامیہ کے فیصلے پر خاموش نہیں رہا جا سکتا کیوں کہ اس سے بیت المقدس کو نقصان پہنچے گا۔

اس سے قبل فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو ردینہ یہ بتا چکے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز عباس کو ٹیلیفونک رابطے میں آگاہ کیا ہے کہ وہ امریکی سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم ابو ردینہ نے نہیں بتایا کہ آیا ٹرمپ نے اس نوعیت کے اقدام کے وقت کا ذکر کیا یا نہیں۔ ترجمان کے مطابق محمود عباس نے اس نوعیت کے اقدام کے امن عمل اور خطے اور دنیا بھر کے امن و استحکام پر ہونے والے خطرناک اور دُور رس اثرات سے خبردار کیا۔

اس سے قبل خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے موصول ٹیلیفون کال پر یہ باور کرا چکے ہیں کہ حتمی تصفیے سے قبل بیت المقدس کی پوزیشن کے حوالے سے کوئی بھی امریکی اعلان امن مذاکرات کو نقصان پہنچائے گا اور خطے میں کشیدگی میں اضافہ کر دے گا۔ شاہ سلمان نے زور دے کر کہا کہ اس اقدام کے نتیجے میں دنیا بھر میں مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہو جائیں گے اس لیے کہ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول اور ایک عظیم حیثیت کا حامل ہے۔

دوسری جانب عرب لیگ نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیت المقدس شہر سے متعلق اقوام متحدہ کے تمام فیصلوں کی پاسداری کرے۔ عرب لیگ نے باور کرایا کہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا عربوں پر حملہ شمار ہو گا اور یہ امن کو سبوتاژ کر دے گا۔