.

حوثی ملیشیا نےعلی صالح کے 1000حامی موت کے گھاٹ اتار دیے

اسپتالوں سے سیکڑوں زخمیوں کو اٹھا لیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وزیر برائے انسانی حقوق محمد عسکر نے بتایا ہے کہ ایران نواز حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعاء میں قتل عام کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حوثی دہشت گردوں نے گذشتہ چار دنوں میں صنعاء میں سابق مقتول صدر علی عبداللہ صالح کے ایک ہزار سے زاید حامیوں کو قتل کر دیا ہے۔

یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں یمنی وزیر برائے انسانی حقوق نے بتایا کہ حوثی باغیوں نے صنعاء کے اسپتالوں میں لائے گئے سیکڑوں زخمیوں کو بھی اٹھا لیا ہے۔ باغی جنگجو پرامن احتجاجی مظاہرین کو طاقت سے کچلنے اور خواتین کے ساتھ بھی توہین آمیز سلوک کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

محمد عسکر نے انسانی حقوق کی علاقائی اور عالمی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ حوثی مجرموں اور انسان دشمن عناصر کے جرائم بے نقاب کرنے اور صنعاء میں محصور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ یمنی باغیوں سے نجات کا واحد حل اقوام متحدہ کی قرارداد 2216 پر عمل درآمد میں مضمر ہے۔ اس قرارداد میں تمام متحارب فریقین میں مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل متفقہ دستور کی تیاری پر زور دینے کے ساتھ یمن کی وحدت برقرار رکھنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔