.

القدس بارے ٹرمپ کا فیصلہ ’باطل‘ ہے: شاہ عبداللہ، محمود عباس

دونوں رہ نماؤں نے امریکی صدر کے اعلان کے بعد ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم اور فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت قرار دیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’باطل‘ قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عمان میں شاہی دیوان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مملکت کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اردن فلسطینیوں کے تاریخی حقوق اور دیرینہ مطالبات کی حمایت جاری رکھے گا۔ القدس کے بارے میں امریکی صدرکا فیصلہ ناقابل قبول ہے۔ اردن کی حکومت مشرقی بیت المقدس کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے کی مساعی جاری رکھے گی۔

قبل ازیں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے عمان میں اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات کی۔ ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت بنائے جانے کے اعلان اور اس کے بعد کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہ نماؤں نے امریکی اقدام کے خلاف عالمی سطح پر سفارتی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ واضح کیا کہ القدس اور قضیہ فلسطین کا بین الاقوامی قراردادوں اور عالمی قانون کے تحت حل ناگزیر ہے۔

اس موقع پر اردنی فرمانروا نے فلسطینی قوم کے حقوق کے تحفظ اور بیت المقدس کی اسلامی اور عرب شناخت کی بقاء کے لیے عرب، مسلمان ممالک اور عالمی سطح پر کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

شاہ عبداللہ سے بات چیت کرتے ہوئے محمود عباس نے کہا کہ تمام عرب ممالک کو امریکی اعلان کے جواب میں یکساں رد عمل اختیار کرتے ہوئے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی صدر کے القدس کے بارے میں متنازع اعلان نے خطے کو ایک نئی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ اور غیرآئینی اقدام کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔

دونوں رہ نماؤں نے واضح کیا کہ مقبوضہ بیت المقدس کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ صدر محمود عباس نے کہا کہ فلسطینی قوم مشرقی بیت المقدس سے کسی قیمت پر دست بردار نہیں ہوگی۔